خطبات محمود (جلد 21) — Page 197
$1940 197 خطبات محمود بھی ہو گی اور اغلباً مذ ہبی امور میں بھی دست اندازی کی جائے گی اور ایسے خطرات کے وقت میں مومن کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے رب کے حضور جھک جائے اور کہے کہ اے خدا دنیا پر شدید مصائب کا وقت آگیا ہے۔میرے پاس کوئی سامان نہیں اور دشمن نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ہمیں آئندہ کی باتوں کا کوئی علم نہیں تو ہی غیب کا جاننے والا ہے۔ظاہر حالات میں تو ہم یہی سمجھتے ہیں کہ یہ دن بہت بُرے ہیں اگر واقعی ایسا ہے تو ہم بے بسوں اور بے کسوں کی طرف سے تو ہی کافی ہو جا اور ان بلاؤں کو دور کر دے۔لیکن اگر تیرے علم میں یہ حالات اچھے ہیں اور ان خرابیوں کا نتیجہ اچھا نکلنے والا ہے تو تو ہمیں ڈبدا اور شک میں نہ رکھ اور اپنے الہام اور وحی سے ہمیں بتا دے تاہماری گھبر اہٹ دور ہو۔پس دعائیں کرو، دعائیں کرو اور دعائیں کرو۔گھبراہٹ میں کئی لوگ دفاعی انجمنیں بنارہے ہیں۔مجھے معلوم ہے کہ اس علاقہ کے بعض لوگوں نے بھی کوئی ایسی انجمن بنائی ہے اور بعض نے شکایت کی ہے کہ دیکھو احمدی ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوتے۔اصل بات یہ ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ خود ایسی انجمنیں بنائے گی اور ہم اس کے منتظر ہیں۔پس یہ درست نہیں جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ احمدی ہمارا ساتھ نہیں دیتے کیونکہ وہ اس بات پر مغرور ہیں کہ ان کی تعداد زیادہ ہے مگر یہ بات بالکل غلط ہے۔کسی ایک قصبہ کی تعداد کی زیادتی کس طرح غرور کا موجب ہو سکتی ہے۔ہمارے ارد گرد تمام سکھوں کے گاؤں ہیں۔ایک سو نوے دیہات سکھوں کے ہیں جو امر تسر اور سیالکوٹ کے اضلاع تک پھیلے ہوئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اتنے وسیع دیہات میں ایک بستی والے خواہ وہ وہاں زیادہ تعداد میں ہی کیوں نہ ہوں اپنے آپ کو زیادہ نہیں سمجھ سکتے۔پس اگر ہم کسی انجمن میں اب تک شامل نہیں ہوئے تو یہ کسی غرور کی وجہ سے نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ سب باتوں پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے اور گور نمنٹ کو موقع دیا جائے کہ ایسی انجمنیں بنائے۔حملہ کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں ایک بیرونی حملہ اور دوسری ملکی بدامنی۔اگر کوئی بیرونی دشمن حملہ آور ہو تو ظاہر ہے کہ ہندو، سکھ ، مسلمان احمدی، غیر احمدی سب ملک کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔بھلا تو پوں، مشین گنوں اور ہوائی جہازوں کے مقابلہ میں ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے کیا بنتا ہے ؟ ایسی صورت میں تو اللہ تعالیٰ کا فضل