خطبات محمود (جلد 21) — Page 196
1940 196 خطبات محمود ہو سکتی ہے۔ایک یہ کہ اس کے بحری اور ہوائی بیڑا سے فائدہ اٹھائے اور یا پھر یہ کہ برطانوی نو آبادیوں کے ساتھ جو فرانسیسی نو آبادیاں ہیں ان پر قبضہ کرلے۔مثلاً یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شام میں جرمن فوجیں چوری چوری پہنچا دی جائیں اور پھر فرانسیسی ان لوگوں کو جرمنوں کے حوالہ کر کے خود اس ملک پر قبضہ چھوڑ دیں لیکن کوئی بھی صورت ہو انگریزوں کے لئے بہت خطر ناک ہو سکتی ہے اور ظاہر ہے کہ ان حالات میں اور بھی بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔اب حالات ایسی صورت اختیار کر گئے ہیں کہ یہ اب اللہ تعالیٰ کے ہی ہاتھ میں ہے کہ اس طوفان کو بند کرے کسی انسان کی طاقت میں اب یہ امر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔کوئی کشتی اب بچا سکتی نہیں اس سیل سے حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے 3 عین ممکن ہے کہ یہ اسی جنگ کی طرف اشارہ ہو۔اس وقت یہ حالت ہے کہ سب حیلے جاتے رہے ہیں اور اب ایک تو اب بادشاہ ہی کی بارگاہ ہے جو اس مصیبت سے نجات دلا ہے۔جن لوگوں پر اصل مصیبت ہے وہ تو ابھی غافل ہیں اور ابھی عیسائیت ہی کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔توحید کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں مگر چونکہ ان کی بلائیں ہم پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں اور ہمیں بھی ان سے حصہ پہنچتا ہے اس لئے ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں اور اگر ہم حضرتِ تو اب کی بارگاہ میں جھکیں تو ممکن ہے ہماری دعا سے ہی اللہ تعالیٰ ان بلاؤں کو ٹال دے۔اب دعاؤں کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ہر وہ شخص جس کے دماغ میں عقل ہو اور جو فکر صحیح کا مادہ رکھتا ہو سمجھ سکتا ہے کہ انسانی تاریخ کے موجودہ دور میں ایسا نازک اور اس قدر تکلیف دہ وقت کبھی نہیں آیا۔اس سے سو سال پہلے بھی نہیں آیا اور سو سال بعد بھی آنے کی امید نہیں۔دنیا تباہی کے سرے پر کھڑی ہے اور غلامی دنیا کو اپنا شکار بنانے کے لئے جھانک رہی ہے۔آزادی کے خواب جو انسان دیکھ رہا تھا وہ بالکل باطل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور آثار ایسے ہیں کہ پہلے سے زیادہ سخت قسم کی غلامی دنیا کو اپنا شکار بنانے والی ہے۔پہلی غلامی تو صرف جسمانی غلامی تھی مگر اب جو حالات ہیں ان سے معلوم ہو تا ہے کہ جسمانی کے ساتھ روحانی غلامی