خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 192

* 1940 192 خطبات محمود ہے کبھی ان کو بالکل مٹا دیتا ہے اور کبھی ان کے زور کو کم کر دیتا ہے۔یا تو اس رنگ میں کہ عذاب کی شدت کم ہو جاتی ہے یا اس رنگ میں کہ اس کو برداشت کرنے کی ہمت انسان کے اندر بڑھ جاتی ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلا تا ہوں کہ اس نازک وقت میں وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خاص طور پر دعاؤں میں مشغول ہو جائیں۔اس کے لئے میں جماعت کے تمام مخلص دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جولائی کے آخر تک ہر نماز جمعہ کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد امام کے ساتھ مل کر دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم الشان فتنہ کی بربادیوں سے اپنے غریب بندوں کو بچائے۔خصوصاً جماعت احمدیہ کو محفوظ رکھے اور اس فتنہ کا نتیجہ سچ اور راستی کے لئے اچھا ہو اور جھوٹ اور مکر کے لئے بُرا ہو۔اسی طرح میں اپنے دوستوں سے خواہش کرتا ہوں کہ جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے وہ جولائی کے آخر تک ہر جمعرات کو روزہ رکھیں اور روزہ کے خاتمہ پر جن کو توفیق ہو وہ اپنے اپنے مقام پر جمع ہو کر اسی رنگ میں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حق اور راستی کو فتح دے اور دنیا سے ظلم، فریب اور دغا کو مٹا کر اپنے کمزور بندوں کو تباہی و بربادی سے محفوظ رکھے اور بجائے اس کے کہ عذاب میں مبتلا ہو کر وہ تباہ ہو جائیں خدا تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور انہیں ہدایت کی طرف متوجہ کرے کیونکہ آخر جو تباہ ہو رہے ہیں وہ بھی ہمارے بھائی ہیں، جو مظلوم ہیں وہ بھی ہمارے بھائی ہیں اور جو ظالم ہیں وہ بھی ہمارے بھائی ہیں اور رسول کریم صلی علیکم کا ارشاد ہے کہ تم اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم۔جب رسول کریم صلی علی کریم نے یہ بات بیان کی تو احادیث میں لکھا ہے بعض صحابہ نے کہا یار سول اللہ ! مظلوم کی مدد تو ہماری سمجھ میں آسکتی ہے مگر ظالم کی مدد کرنے کا ارشاد سمجھ نہیں آیا۔آپ نے فرمایا ظالم بھائی کی مدد یہ ہے کہ تو اسے ظلم سے روک دے۔5 پس اگر ہم یہ دعا کرتے ہوئے کہ خدا تعالیٰ سچائی کو فتح دے، ظلم کو دنیا سے مٹادے اور لوگوں کو بجائے عذاب سے تباہ کرنے کے ظالموں کی ہدایت کے سامان کرے اور مظلوموں کو ظلم سے محفوظ رکھے تو ہم ظالم کی بھی مدد کرتے ہیں اور مظلوم کی بھی۔اور ہم اپنے رب سے وہ چیز طلب کرتے ہیں جس کا نتیجہ خیر ہی خیر ہے اور جس میں شر“ کا کوئی پہلو الله