خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 174

* 1940 174 خطبات محمود دنیا میں ایک تغیر ہوتا ہے یعنی دن کے بعد رات شروع ہو جاتی ہے مگر وہ پھر اعلان کرتا ہے کہ گورات آگئی اور دنیا میں اندھیرا ہو گیا مگر اب بھی میر اوہی عقیدہ ہے جو صبح تھا۔میرے ایمان اور عقائد میں کوئی تغیر نہیں آیا۔پھر عشاء ہوتی ہے لوگ سونے لگتے ہیں، نئی نئی امیدیں باندھتے ہیں کہ آج کاروبار میں گو گھاٹا ہوا مگر صبح یوں کام کریں گے۔اس کے ساتھ چور ڈاکو اور قاتل اپنے دلوں میں بڑے منصوبے سوچنے میں مشغول ہوتے ہیں مگر اس وقت بھی مسلمان اعلان کرتا ہے کہ اللہ اکبر الله اکبر۔میں اب بھی اللہ تعالیٰ کو بڑا سمجھتا ہوں اور محمد لی لی یمن کو اللہ تعالی کار سول سمجھتا ہوں۔اگر کوئی چوری، ڈاکہ یا قتل کی نیت کرتا ہے تو میں اس سے بری ہوں۔میں اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سونے لگا ہوں۔غرض یہ اعلان مسلمانوں سے دن میں پانچ مرتبہ کرایا گیا ہے اس لئے کہ انسان کی نیت بدلتے دیر نہیں لگتی۔پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اعلان کرے کہ میں اب بھی ویسا ہی ہوں جیسا صبح تھا۔اسلام کوئی خفیہ مذہب نہیں وہ عَلى الاعلان اپنے ماننے والے سے اس کے عقائد کا اعلان کراتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ مسجدوں میں کھڑے ہو کر شور کرو کہ ہم مسلمان ہیں۔پس جب رسول کریم صلی علیم کے زمانہ میں یہ اعلان ضروری تھا تو آج جس کے متعلق یہ بتایا گیا کہ اس زمانہ میں ایک شخص رات کو مومن سوئے گا اور صبح کا فر اٹھے گا اور رات کو کافر سوئے گا اور صبح مومن اٹھے گا۔اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ ہم کیا ہیں اور ہمارے عقائد کیا ہیں۔اسی لئے میں ہر سال تحریک جدید کے متعلق یہ جلسے کرایا کرتاہوں تاہم دنیا کو بتا سکیں کہ ہم آج بھی ان باتوں پر قائم ہیں اور تا ہمارے اپنے نفس بھی ان باتوں کو یاد کر لیں۔پھر جو نئے بچے اس عرصہ میں جوان ہوئے ہیں وہ بھی ان باتوں کو ذہن نشین کر لیں۔اس تحریک پر آج چھ سال گزر چکے ہیں۔کئی بچے جو اس وقت دس سال کے تھے اور اس وجہ سے ان باتوں کو نہ سمجھتے تھے آج سولہ سال کے جوان ہیں اور ان باتوں کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔کئی بچے ذہین ہوتے ہیں اور دس سال کی عمر میں بات سمجھ سکتے ہیں۔وہ اس وقت چار سال کے تھے اور نہ سمجھ سکتے تھے مگر آج سمجھنے کے قابل ہو چکے ہیں۔اس لئے ان کو آگاہ کرناضروری ہے۔