خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 155

خطبات محمود 155 $1940 اسی طرح یہاں ایک دفعہ ایک میلہ ہوا ایک شخص جو نام کے لحاظ سے تو احمدی تھا مگر دراصل وہ منافق تھا۔مغرب کی نماز کے وقت میرے پاس آیا اور کہنے لگا الگ ہو کر مجھ سے ایک بات سن لیجئے۔میں نے کہا کیا ہوا؟ وہ کہنے لگا ابھی ایک معتبر آدمی کے ذریعہ یہ خبر پہنچی ہے کہ بہشتی مقبرہ سے پرے پانچ سو آدمی بندوقیں اور لاٹھیاں لئے کھڑے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ قادیان پر حملہ کر دیں۔وہ جیسا احمدی تھا اسے میں اچھی طرح جانتا تھا۔اس لئے میں نے کہا ٹھہرو میں تحقیقات کراتا ہوں۔چنانچہ میں نے ایک آدمی کو بلایا اور کہا کہ فلاں جگہ جاؤ اور دیکھو کہ وہاں کوئی اجتماع ہے؟ وہ گیا اور آکر کہنے لگا کہ پانچ سو چھوڑ وہاں پانچ آدمی بھی نہیں ہیں۔حالانکہ خبر سنانے والے نے کہا تھا کہ ایک معتبر آدمی نے اسے یہ بات بتائی ہے مگر میں ذاتی طور پر جانتا تھا کہ مجھ تک بات پہنچانے والا منافق ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ جماعت فوری اشتعال کے نتیجہ میں کسی پر حملہ کر دے اور اس طرح فساد ہو جائے اس لئے اس کے دھو کے میں نہ آیا۔تو اس قسم کی خبریں ہمیشہ نکلا کرتی ہیں اور لوگوں میں پھیل بھی جاتی ہیں جس سے نادان متائثر ہو جاتے ہیں۔اسی لئے قرآن کریم میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تم کوئی بری خبر سنو تو اسے فوری طور پر لوگوں میں پھیلانا شروع نہ کر دو بلکہ اولی الامر تک پہنچاؤ جو استنباط کرنے اور بات کو سمجھنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔عوام الناس تک بات پہنچانے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ان کو بر انگیختہ کر دیا جائے اور لوگوں میں فساد ڈلوایا جائے۔جنگ کے متعلق بھی میں دیکھتا ہوں کہ عام طور پر خبریں آتی اور لوگوں میں پھیلتی رہتی ہیں اور طبعی طور پر بوجہ اس کے کہ انگریزوں سے ہندوستانیوں کو منافرت ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ انگریز بلا وجہ ان کے ملک پر حکومت کر رہے ہیں ان کے خلاف جو بات بھی ہو اُسے وحی جبرائیل کی طرح ہر قسم کے جھوٹ، دھوکا اور فریب سے پاک سمجھتے ہیں بلکہ آجکل کے مسلمان تو قرآن کریم پر یہ اعتراض کر دیں گے کہ اس کی فلاں بات درست نہیں۔مگر جر من براڈ کاسٹ میں اگر وہ کوئی خبر سن لیں تو اس کی صداقت میں انہیں کسی قسم کا شک نہیں رہتا۔حالانکہ ان خبروں میں اول تو بہت کچھ جھوٹ سے کام لیا جاتا ہے پھر ان خبروں کا