خطبات محمود (جلد 21) — Page 154
$1940 154 خطبات محمود جاکر یہ تحقیقات تو نہیں کرنی کہ کوئی فساد ہوا ہے یا نہیں بلکہ جوش کی حالت میں جو ہندو یا سکھ ان کے سامنے آیا اس کے سر میں انہوں نے سونا مار دینا ہے۔چنانچہ ایسی حالت میں میں نے اسی ہتھیار سے کام لیا جو ہمارا روحانی ہتھیار ہے اور میں نے کہا مولوی رحمت علی اگر تم ایک قدم بھی آگے بڑھے تو میں تمہیں اپنی جماعت سے خارج کر دوں گا۔ان کی اس وقت کی حالت آج تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔سر سے لے کر پیر تک ان کا تمام جسم کانپ رہا تھا اور نہ معلوم طالب علم ہونے کی وجہ سے ان کے دل میں اس وقت کیا کچھ خیالات اٹھے ہوں گے کہ یہ اچھا خلیفہ ہے احمدیوں کے مارے جانے پر ہمیں تو جوش آ رہا ہے اور اسے کچھ احساس ہی نہیں۔مگر بہر حال وہ ٹھہر گئے اور انہوں نے لجاجت سے مجھے کہنا شروع کر دیا کہ حضور ابھی آدمی آیا ہے وہ کہتا ہے کہ نیر صاحب مارے گئے اور کئی احمدی زخمی تڑپ رہے ہیں۔میں نے کہا اس کے تم ذمہ دار نہیں میں ذمہ دار ہوں۔اتنے میں قاضی عبد اللہ صاحب بھی آگئے اور انہوں نے بتایا نہ کوئی مارا گیا، نہ کوئی زخمی ہوا اور نہ کوئی تڑپ رہا ہے۔سب لوگ آرام سے اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر خدا تعالیٰ مجھے اس دن وہاں نہ لے آتا تو یقیناً دو چار ہندوؤں یا سکھوں کا خون ہو جاتا کیونکہ جس طرح ایک صحابی نے یہ کہا تھا کہ میں شراب کا مٹکا پہلے توڑوں گا اور یہ دریافت بعد میں کروں گا کہ ڈھنڈورہ دینے والے نے کیا کہا اسی طرح مولوی رحمت علی صاحب نے دو چار ہندوؤں یا سکھوں کو پہلے مار نا تھا اور نیر صاحب کی لاش اور زخمی احمدیوں کو بعد میں تلاش کرنا تھا۔جس شخص نے لوگوں میں یہ خبر پھیلائی مجھے اس کا بھی علم ہے۔اللہ تعالیٰ اسے معاف کرے وہ ہمارا رشتہ دار تھا اور بعد میں احمدی بھی ہو گیا۔میں نے اسے خود دیکھا کہ وہ سر نکال نکال کر احمدیوں سے کہہ رہا تھا کہ تم یہاں کھڑے ہو اور وہاں کئی احمدی مارے گئے ہیں۔گویا غیر احمدی ہو کر اسے احمدیوں کے متعلق زیادہ جوش تھا۔تو دنیا میں اس قسم کی کئی خبریں نکلتی رہتی ہیں جو بالکل بے پر کی ہوتی ہیں۔میرا اپنا قادیان کا تجربہ تمہارے سامنے ہے کہ پہلے یہ خبر آئی کہ نیر صاحب مارے گئے ہیں۔پھر یہ خبر آئی کہ بہت سے اور احمدی بھی زخمی ہو چکے ہیں اور وہ زخموں کی شدت سے تڑپ رہے ہیں۔مگر واقعہ یہ تھا کہ نہ کوئی مارا گیا اور نہ کوئی زخمی ہوا۔