خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 149

1940 149 خطبات محمود جر من اس ہتھیار کو خاص طور پر استعمال کر رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ ان کو ایسا موقع بھی میسر آگیا ہے کہ ان کی باتیں دلوں پر زیادہ اثر کرنے لگ گئی ہیں۔پہلے انہوں نے پولینڈ پر حملہ کیا جہاں انگریز پہنچ نہیں سکتے تھے اور اس ملک کو انہوں نے تہہ تیغ کر کے فتح کر لیا۔پھر انہوں نے ڈنمارک پر حملہ کیا اور اسے راتوں رات لے گئے۔کہتے ہیں کیا پڑی اور کیا پدی کا شوربہ۔ڈنمارک کی فوج صرف چند ہزار تھی اور جرمنی کی اتنی لاکھ ہے۔چنانچہ ڈنمارک کے بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ چپ کر کے گھر میں بیٹھ رہو اور جرمنوں کا مقابلہ نہ کرو۔چنانچہ ڈنمارک بھی گیا۔اس کے بعد انہوں نے ناروے پر حملہ کیا اور وہاں بھی انہیں بہت حد تک کامیابی ہوئی۔پھر ہالینڈ پر حملہ کیا اور اسے بھی جیت لیا۔پھر جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کر دیا اور یہاں اللہ تعالی کی حکمت کے ماتحت اتحادیوں سے ایک ایسی غلطی ہو گئی جس کا وہ اب تک خمیازہ بھگت رہے ہیں مگر بہر حال بیلجیئم کو بھی جرمنی نے فتح کر لیا۔وہ غلطی جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان سے اپنی طاقت کے خیال کی وجہ سے ہوئی۔فرانسیسی کمان یہ یقین رکھتی تھی کہ اس کے پاس اتنے سامان ہیں کہ وہ جب بھی چاہے گی ان سامانوں کو استعمال کر کے جر منوں کو آگے بڑھنے سے روک دے گی۔مگر یہ بات غلط ثابت ہوئی کیونکہ جہاں ان کے پاس سامان زیادہ تھا وہاں انہوں نے اس سامان کو پورے طور پر استعمال نہیں کیا تھا اور جرمنی کے پاس گو سامان کم تھا مگر جو کچھ بھی تھا وہ سب کا سب اپنے استعمال میں لا رہا تھا۔مثلاً جر منی کے پاس لوہا کم تھا اس کمی کو پورا کرنے کے لئے جرمنی میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ ہر جر من کا یہ فرض ہے کہ وہ ہٹلر کو سالگرہ کا تحفہ پیش کرے اور تحفہ یہ ہو کہ اس کے گھر میں جو لوہے کی چیز ہو وہ قوم کے لئے دے دے۔اگر کسی کے گھر ز نجیر پڑی ہو تو وہ زنجیر لے آئے، لوہے کا کوئی کنڈ ا بے کار پڑا ہو تو وہی لے آئے ، بر تن ہیں تو وہی لے آئے ، انگیٹھیاں ہیں تو وہ پیش کر دے۔غرض لوہے کی جو چیز بھی کسی کے پاس موجود ہو وہ ہٹلر کو ہدیہ پیش کر دے۔اب اتنے بڑے ملک میں جس کی آٹھ کروڑ کی آبادی ہو تم سمجھ سکتے ہو کہ لوگوں کے گھروں میں کتنا لوہا ہو گا۔بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ ان ملکوں میں لوہے کا استعمال نسبتاً زیادہ کیا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے اپنے دروازے توڑ دیئے، جنگلے توڑ دیئے ، چھتیں توڑ دیں اور لوہے کے ڈھیر لگا دیئے۔حکومت