خطبات محمود (جلد 21) — Page 105
* 1940 105 خطبات محمود بیان کیا کہ ہم سے جو دوبارہ بیعت لی گئی تھی یہ بیعت ارشاد تھی جو پیر اس وقت لیتا ہے جب وہ اپنے مرید کے اندر اعلیٰ درجہ کے روحانی کمالات دیکھتا ہے۔گویا حضرت خلیفہ اول نے بیہ بیعت ان کی روحانی ترقی کی بناء پر خاص طور پر ان سے لی اور یہ بیعت “بیعت ارشاد ” تھی۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ ہم سے بیعت ارشاد لی گئی مگر جب میاں نے بھی بیعت کرنی چاہی تو ان کو ہٹا دیا۔یہ بالکل ویسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کسی انگریز کا کوئی باورچی تھا جو کھانا بہت خراب پکایا کرتا تھا مگر وہ جہاں کہیں بیٹھتا بڑیں ہانکنی شروع کر دیتا اور کہتا کہ میں اتنا لذیذ کھانا پکاتا ہوں کہ بس یہی جی چاہتا ہے کہ انسان کھاتے چلا جائے۔ایک دفعہ اس نے اپنے آقا کے لئے کھانا جو پکا یا تو وہ اسے سخت بد مزہ معلوم ہوا اور اس نے باورچی کو کمرہ کے اندر بلا کر خوب چپتیں لگائیں۔باورچی نے سمجھا کہ اب میں باہر نکلوں گا تو میری بڑی ذلت ہو گی اس لئے کوئی ایسا طریق سوچنا چاہیے جس سے لوگوں کا ذہن کسی اور طرف منتقل ہو جائے چنانچہ وہ باہر نکلا اور اس نے بڑے زور سے قہقہے لگانے شروع کر دیئے ساتھ ہی وہ ہاتھ پر ہاتھ مارتا چلا جائے۔لوگوں نے پوچھا کیا ہوا؟ وہ کہنے لگا کہ آج تو کھانا اتنا لذیذ تھا کہ صاحب ہاتھ پر ہاتھ مارتا تھا اور کہتا تھا اتنا مزیدار کھانا میں نے آج تک کبھی نہیں کھایا۔گویا انگریز نے تو اسے چھپتیں لگائیں اور اس نے یہ فسانہ بنالیا کہ انگریز ہاتھ پر ہاتھ مارتا تھا اور کہتا تھا آج خوب کھانا پکا یا۔یہی حال ان لوگوں کا ہے۔یہ بھی جب یہاں سے نکلے تو انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ ہم سے تو بیعت ارشاد لی گئی تھی جو پیر اپنے مرید سے اس وقت لیتا ہے جب وہ اعلیٰ درجہ کی منازل روحانی طے کر لیتا ہے اور یہ بیعت ہمیں نصیب ہوئی میاں کو نصیب نہیں ہوئی۔حالانکہ اول تو یہ بات ہی غلط ہے اور ہر شخص جو واقعات کو جانتا ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ بیعت ارشاد ر تھی یا نہیں لیکن اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ بیعت ارشاد تھی تو پھر یہ بیعت ارشاد تو شیخ یعقوب علی صاحب سے بھی لی گئی تھی ان پر یہ لوگ کیوں ٹوٹے پڑتے تھے ؟ بہر حال جب جلسہ ختم ہوا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے مگر یہ لوگ جو حضرت خلیفہ اول کی دوبارہ بیعت کر چکے تھے اپنے دلوں میں اور زیادہ منصوبے سوچنے لگے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا