خطبات محمود (جلد 21) — Page 104
خطبات محمود کھڑا ہوا ہوں۔104 $ 1940 لوگوں نے جب حضرت خلیفہ اول کے جب یہ خیالات معلوم کئے تو گو جماعت کے بہت سے دوست ان کے ہم خیال بن کر آئے ہوئے تھے مگر ان پر اپنی غلطی واضح ہو گئی اور انہوں نے رونا شروع کر دیا۔چنانچہ جو لوگ اس جلسہ کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ مجلس اس وقت ایسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسے شیعوں کے مرثیہ کی مجالس ہوتی ہیں۔اس وقت لوگ اتنے کرب اور اتنے درد سے رو رہے تھے کہ یوں معلوم ہو تا تھا کہ مسجد ماتم کدہ بنی ہوئی ہے اور بعض تو زمین پر لیٹ کر تڑپنے لگ گئے۔پھر آپ نے فرمایا کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھانا یا جنازہ یا نکاح پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے یہ کام تو ایک ملا بھی کر سکتا ہے اس کے لئے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔بیعت وہی ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور جس میں خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔آپ کی اس تقریر کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کے دل صاف ہو گئے اور ان پر واضح ہو گیا کہ خلافت کی کیا اہمیت ہے۔تقریر کے بعد آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ وہ دوبارہ بیعت کریں۔اسی طرح آپ نے فرمایا میں ان لوگوں کے طریق کو بھی پسند نہیں کرتا جنہوں نے خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کیا ہے اور فرمایا جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو ان کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے۔ہم نے ان کو اس کام پر مقرر نہیں کیا تھا پھر جبکہ مجھے خود خدا تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے کہ میں اس فتنہ کو مٹا سکوں تو انہوں نے یہ کام خود بخود کیوں کیا۔چنانچہ شیخ یعقوب علی صاحب سے جو اس جلسہ کے بانی تھے انہیں بھی آپ نے فرمایا کہ آپ دوبارہ بیعت کریں۔چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب سے دوبارہ بیعت لی گئی۔میں نے اس وقت یہ سمجھ کر کہ یہ عام بیعت ہے اپنا ہاتھ بھی بیعت کے لئے بڑھا دیا مگر حضرت خلیفہ اول نے میرے ہاتھ کو پرے کر دیا اور فرمایا یہ بات تمہارے متعلق نہیں۔اس موقع پر دو چار سو آدمی جمع تھے اور تمام لوگوں نے یہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے مگر ان لوگوں کی دیانت اور ایمانداری کا یہ حال ہے کہ خواجہ صاحب نے بعد میں لوگوں سے