خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 90

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء یوسف نے کہا یہاں تو کوئی نہیں۔دراصل یوسف نے اُسے اِدھر اُدھر کہیں کھسکا دیا تھا۔اس طرح اُس نے اپنی بات بھی کچی کر لی اور واقعہ بھی ظاہر نہ ہونے دیا۔چنانچہ پولیس واپس چلی گئی تھوڑی دیر گزری تھی کہ نوکر اس کے لڑکے کی لاش اُٹھا کر پہنچ گئے اور اُنہوں نے کہا کہ اسے ابھی کسی شخص نے قتل کر دیا ہے۔وہ اپنے لڑکے کی لاش دیکھتے ہی ساری حقیقت سمجھ گیا اور بھانپ گیا کہ جس شخص کو میں نے پناہ دی ہے وہی میرے لڑکے کا قاتل ہے مگر اُس کے اندر کوئی لغزش پیدا نہ ہوئی اور اُس نے پھر بھی پولیس کو یہ نہ بتایا کہ جس شخص نے میرے بیٹے کوقتل کیا کی ہے اُسے میں نے فلاں جگہ چھپا رکھا ہے۔جب لوگ اِ دھر اُدھر ہو گئے تو وہ اُس شخص کے پاس گیا اور اُسے کہا کہ جس شخص کو تم نے مارا ہے وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے مگر چونکہ میں تمہیں پناہ دینے کا وعدہ کر چُکا ہوں اس لئے میں تجھے کچھ نہیں کہتا بلکہ میں خود تجھے بھاگنے کا سامان دیتا ہوں۔یہ میری اونٹنی لے اور یہ سامان اس پر لا داور یہاں سے کسی دوسری طرف کو نکل جا۔چنانچہ وہ اونٹنی پر سوار ہوا اور بھاگ کر کسی اور علاقہ کی طرف نکل گیا یہ اخلاقی دیانت ہے۔اس میں اس کا اپنا کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان تھا مگر چونکہ وہ قول دے چُکا تھا اور اس میں کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی بھی نہیں تھی اس لئے اس نے اپنا قول نہ چھوڑا اور گو دوسرے شخص نے اس کے اکلوتے بیٹے کو مار دیا تھا مگر پھر بھی اس کی جان کو بچا دیا۔تو فردی دیانت بھی نہایت اہم ہوتی اور دلوں کو ہلا دیتی ہے۔اسی طرح ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک شخص قتل کے جرم میں پکڑا گیا۔اُس نے کہا کہ مجھے کچھ مہلت دیجئے کیونکہ میرے پاس بعض یتامیٰ کی امانتیں ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ گھر جا کر وہ امانتیں انہیں واپس کر دوں۔وہ ایک بدوی تھا اور بدویوں کا پکڑ نا نہایت مشکل ہوتا ہے کیونکہ سینکڑوں میل کا صحرا ہوتا ہے جس میں وہ رہتے ہیں اور آج اگر یہاں ہوتے ہیں تو کل وہاں ، کوئی ایک مقام اُن کا ہوتا نہیں کہ وہاں سے انہیں تلاش کیا جاسکے اور اگر ہاتھ سے نکل جائیں تو پھر اُن کا ڈھونڈنا بہت مشکل ہوتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم کوئی ضمانت دو تو ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہیں۔بغیر ضمانت کے ہم تمہیں چھوڑ نہیں سکتے۔اس نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو ایک صحابی کی طرف جو ابو ذر یا ابو الدردار تھے، مجھے اس وقت صحیح نام یاد نہیں ،