خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 89

خطبات محمود ۸۹ سال ۱۹۳۹ء تم نوجوانوں میں قومی دیانت بھی پیدا کرو ، تم نوجوانوں میں تجارتی دیانت بھی پیدا کرو اور تم کی نوجوانوں میں اخلاقی دیانت بھی پیدا کرو۔تجارتی دیانت کے معنے صرف تجارت اور لین دین کی کے معاملات میں ہی دیانت دارانہ رویہ اختیار کرنے کے نہیں بلکہ نوکری بھی اسی میں شامل ہے کیونکہ نوکر ا پنا وقت دوسرے کو دیتا ہے۔پس جس طرح ہر تاجر کا فرض ہے کہ وہ تجارت میں دیانتداری سے کام لے اُسی طرح ہر ملا زم کا بھی فرض ہے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ کام کرے۔دیانتدار نوکر کی ہر کوئی قدر کرتا اور کی اُسے بلا بلا کر رکھتا ہے لیکن اگر کسی کے متعلق ثابت ہو جائے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ کام نہیں کرتا تو اُس کی قدر دلوں سے اُٹھ جاتی ہے۔پس قومی دیانت ، تجارتی دیانت اور اخلاقی دیانت اپنے اندر پیدا کرو۔اخلاقی دیانت کے معنے یہ ہیں کہ باوجود اس کے کہ اپنے قول کی بیچ کرنے پر تم کو نقصان پہنچتا ہو۔اپنے قول کی بیچ کرتے ہوئے نقصان اُٹھا کر بھی اپنے قول کو پورا کرو اور اُسے ضائع نہ ہونے دو۔ایک قصہ مشہور ہے جو گو ہماری ہی قوم کا ہے مگر افسوس ہے کہ ہماری روائتیں بھی ہمارے ذریعہ محفوظ نہیں بلکہ انگریزوں کے ذریعہ محفوظ ہیں۔جب ہم مدرسہ میں پڑھا کرتے تھے اُس وقت ریڈروں میں ایک یوسف ہسپانوی کا قصہ آتا تھا جو اخلاقی دیانت کی بہترین مثال ہے۔یوسف سپین کا ایک مشہور تاجر اور رئیس تھا۔ایک دفعہ کسی شخص نے اُس کے اکلوتے لڑکے کو قتل کر دیا۔یوسف کو اُس کا علم نہیں تھا کہ اُس کا لڑکا مارا گیا ہے۔پولیس اُس قاتل کے پیچھے بھاگی اور وہ قاتل آگے آگے بھاگا۔دوڑتے دوڑتے وہ شخص اُسی مکان کے اندر آ گیا جہاں یوسف رہتا تھا اور اُس سے کہنے لگا کہ مجھے پناہ دو پولیس میرے تعاقب میں آ رہی ہے۔اُسے معلوم نہ تھا کہ میں نے اسی شخص کے بیٹے کو قتل کیا ہے اور یوسف کو بھی معلوم نہ تھا کہ یہ میرے بیٹے کا قاتل ہے۔عربوں کا یہ ایک خاص قومی کیریکٹر ہے کہ جب اُن کے گھر میں کوئی شخص آکر اُن سے پناہ کا طلب گار ہو تو وہ انکار نہیں کر سکتے اور اُسے ضرور پناہ دے دیتے ہیں۔یوسف نے بھی کہا کہ بہت اچھا تم میری پناہ میں ہو۔تھوڑی دیر کے بعد پولیس والے آئے اور اُنہوں نے پوچھا کہ یہاں کوئی شخص دوڑتے دوڑتے آیا ہے؟ وہ ایک شخص کا قاتل ہے اور ہم اُسے گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔