خطبات محمود (جلد 20) — Page 76
خطبات محمود ۷۶ سال ۱۹۳۹ء اور انگریزوں کی نقل کی جاتی ہے کہ ہاؤس “ یہ کہتا ہے۔ہماری مجلس شوریٰ میں بھی یہ ہاؤس" کا لفظ داخل ہو گیا تھا مگر میں نے تنبیہہ کی اس پر وہاں سے تو نکل گیا ہے مگر مدرسوں میں رواج پکڑ رہا ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح کہنے سے اس بات میں کون سائر خاب کا پر لگ جاتا ہے۔کے سیدھی طرح کیوں نہیں کہہ دیا جاتا کہ جماعت کی یہ رائے ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ دماغ کو کفر کی کاسہ لیسی میں لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے۔پس خدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ اس قسم کی آوارگیوں کو خواہ وہ دماغی ہوں یا جسمانی روکیں اور دُور کریں۔کھیلنا آوارگی میں داخل نہیں۔ایک دفعہ مجھے رویا میں بتایا گیا ایک شخص کی نے خواب میں ہی مجھے کہا کہ فلاں شخص ورزش کر کے وقت ضائع کرتا ہے اور میں رویا میں ہی اسے جواب دیتا ہوں کہ یہ وقت کا ضیاع نہیں۔جب کوئی اپنے قومی کا خیال نہیں رکھتا تو دینی خدمات کی میں پوری طرح حصہ نہیں لے سکتا۔اس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے سبق دیا تھا کیونکہ مجھے ورزش کا کی خیال نہیں تھا تو ورزش بھی کام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مونگر یاں اور مگدری پھیرا کرتے تھے۔بلکہ وفات سے سال دو سال قبل مجھے فرمایا کہ کہیں سے مونگر یاں تلاش کر و جسم میں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔چنانچہ میں نے کسی سے لا کر دیں اور آپ کچھ دن انہیں پھیراتے رہے بلکہ مجھے بھی بتاتے تھے کہ اِس اِس رنگ میں اگر پھیری جائیں تو زیادہ مفید ہیں۔پس ورزش انسان کے کاموں کا حصہ ہے۔ہاں گلیوں میں بے کار پھر نا، بے کار بیٹھے باتیں کرنا اور کی بحثیں کرنا آوارگی ہے اور ان کا انسداد خدام الاحمدیہ کا فرض ہے۔اگر تم لوگ دُنیا کو وعظ کرتے پھر ولیکن احمدی بچے آوارہ پھرتے رہیں تو تمہاری سب کوششیں رائیگاں جائیں گی۔پس تمہارا فرض ہے کہ ان باتوں کو روکو، دکانوں پر بیٹھ کر وقت ضائع کرنے والوں کو منع کرو اور کوئی نہ مانے تو اُس کے ماں باپ ، اُستادوں کو اور محلہ کے افسروں کو رپورٹ کرو کہ فلاں شخص آوارہ پھرتا یا فارغ بیٹھ کر وقت ضائع کرتا ہے۔پہلے پہل لوگ تمہیں گالیاں دیں گے، بُرا بھلا کہیں گے اور کہیں گے کہ آگئے ہیں خدائی فوجدار اور طنزیہ رنگ میں کہیں گے کہ بس پکے احمدی تو یہ ہیں ہم تو یونہی ہیں لیکن آخر وہ اپنی اصلاح پر مجبور ہوں گے اور پھر تمہیں دُعائیں دیں گے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے جن لوگوں نے میری تربیت میں حصہ لیا اور کوئی اچھی بات بتائی جب بھی کی