خطبات محمود (جلد 20) — Page 75
خطبات محمود ۷۵ سال ۱۹۳۹ء اس کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر چکا ہوں اور یہ سُو عِ ادبی ہے کہ اس بات کا علم ہونے کے باوجود کہ میں ایک امر کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر چُکا ہوں پھر اس کو زیر بحث لایا جائے۔جن امور میں خدا تعالیٰ یا اُس کے رسول یا اُس کے خلفاء ا ظہار رائے کر چکے ہوں ان کے متعلق بحث کرنا گستاخی اور بے ادبی میں داخل ہے۔کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تو محض کھیل ہے لیکن کیا کوئی کھیل کے طور پر اپنے باپ کے سر میں جوتیاں مارسکتا ہے۔تو ڈیبیٹس سے زیادہ حماقت کی کوئی بات کی نہیں۔ہر احمدی وفات مسیح کا قائل ہے مگر ڈیبیٹ کے لئے بعض حیات مسیح کے دلائل دینے لگتے کی ہیں۔میں تو ایسے شخص سے یہی کہوں گا کہ بے حیا خدا تعالیٰ نے تجھے ایمان دیا تھا مگر تو کفر کی حج چادر اوڑھنا چاہتا ہے۔پس یہ ڈیبیٹس بھی آوارگی میں داخل ہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی ہے کہ حق بات کو تم نے مان لیا تو اُس کا شکریہ ادا کرو نہ کہ خواہ مخواہ اُس کی تردید کرو۔بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس سے عقل بڑھتی ہے لیکن اِس عقل کے بڑھانے کو کیا کرنا کی ہے جس سے ایمان جاتا رہے۔دونوں باتوں کا موازنہ کرنا چاہئے۔اگر ساری دُنیا کی عقل مل جائے اور ایمان کے پہاڑ میں سے ایک ذرہ بھی کم ہو جائے تو اس عقل کو کیا کرنا ہے۔یہ کوئی نفع نہیں بلکہ سراسر خسران اور تباہی ہے۔پس یہ بھی آوارگی میں داخل ہے اور میں نے کئی دفعہ اس سے روکا ہے۔مگر پھر بھی ڈیبیٹس ہوتی رہتی ہیں۔جس طرح کوڑی کو خارش ہوتی ہے اور وہ رہ نہیں سکتا اسی طرح اِن لوگوں کو بھی کچھ ایسی خارش ہوتی ہے کہ جب تک ڈیبیٹ نہ کرا لیں چین کی نہیں آتا اور پھر دینی اور مذہبی مسائل کے متعلق بھی ڈیٹیں ہوتی رہتی ہیں۔حالانکہ وہ تمام مسائل جن کی صداقتوں کے ہم قائل ہیں یا جن میں سلسلہ اظہار رائے کر چکا ہے ان پر بحث کرنا دماغی آوارگی ہے اور حقیقی ذہانت کے لئے سخت مضر ہے۔میں نے سو دفعہ بتایا ہے کہ اگر اس کی کی بجائے یہ کیا جائے کہ دوست اپنی اپنی جگہ مطالعہ کر کے آئیں اور پھر ایک مجلس میں جمع ہو کر یہ بتائیں کہ فلاں مخالف نے یہ اعتراض کیا ہے۔بجائے اس کے کہ یہ کہیں کہ میں یہ اعتراض کی فلاں مسئلہ پر کرتا ہوں۔اگر مولوی ثناء اللہ صاحب یا مولوی ابراہیم صاحب یا کسی اور مخالف کے اعتراض پیش کئے جائیں اور پھر سب مل کر جواب دیں اور خود اعتراض پیش کرنے والا بھی جواب دے تو یہ طریق بہت مفید ہو سکتا ہے مگر ایسا نہیں کیا جاتا بلکہ ڈیبیٹیوں کو ضروری سمجھا جاتا ہے