خطبات محمود (جلد 20) — Page 69
خطبات محمود ۶۹ سال ۱۹۳۹ء تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ اس وقت یہ امراض پیدا ہو گئے ہیں اور ان کے لئے یہ قرآنی نسخے ہم استعمال کرتے ہیں اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ سارا پروگرام سامنے ہواور اس میں سے حالات کے مطابق باتیں لے لی جائیں لیکن اگر سا را پروگرام سامنے نہ ہو تو اس کا ایک نقص یہ ہوگا کہ صرف چند باتوں کو دین سمجھ لیا جائے گا۔پس خدام الاحمدیہ کا اہم فرض یہ ہے کہ اپنے ممبروں میں قرآن کریم با ترجمہ پڑھنے اور ڑھانے کا انتظام کریں اور چونکہ وہ خدام الاحمدیہ ہیں صرف اپنی خدمت کے لئے ان کا وجود نہیں۔اس لئے جماعت کے اندر قرآن کریم کی تعلیم کو رائج کرنا ان کے پروگرام کا خاص حصہ ہونا چاہئے۔تیسری بات جو ان کے پروگرام میں ہونی چاہئے وہ آوارگی کا مٹانا ہے۔آوارگی بچپن میں پیدا ہوتی ہے اور یہ سب بیماریوں کی جڑ ہوتی ہے اس کی بڑی ذمہ داری والدین اور استادوں پر ہوتی ہے۔وہ چونکہ احتیاط نہیں کرتے اس لئے بچے اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس کے مٹانے کے لئے کتنا انتظام کیا ہے کہ فرمایا بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان اور تکبیر کہی جائے ہے اور اس طرح عمل سے بتا دیا کہ بچہ کی تربیت چھوٹی عمر سے شروع ہونی چاہئے۔آپ نے فرمایا ہے کہ بچوں کو مساجد اور عید گاہوں میں ساتھ لے جانا چاہئے۔لے خود آپ کا اپنا طریق بھی یہی تھا۔آجکل تو یہ حالت ہے کہ سترہ اٹھارہ سال کے نوجوان بھی بیہودہ حرکت کریں تو والدین کہہ دیتے ہیں کہ ابھی نیا نا یعنی کم عمر ہے لیکن ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عباس حدیثیں سناتے ہیں جبکہ اُن کی عمر صرف تیرہ سال کی ہے۔امام مالک کے درس میں امام شافعی شریک ہونے کے لئے گئے اُن کی کے درس میں بیٹھنے کے لئے یہ ضروری شرط تھی کہ طالبعلم قلم دوات لے کر بیٹھے اور جو کچھ وہ بتا ئیں نوٹ کرتا جائے۔امام شافعی کی عمر اُس وقت صرف نو سال کی تھی۔امام مالک نے انہیں بیٹھے دیکھا تو کہا بچے تم کیوں بیٹھے ہو؟ امام شافعی نے جواب دیا کہ درس میں شامل ہونے کے لئے آیا ہوں۔آپ نے پوچھا کہ اب تک کیا پڑھا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ یہ پڑھ چکا ہوں۔اس پر امام مالک نے کہا کہ تم بہت کچھ پڑھ چکے ہو مگر میرے درس میں بیٹھنے کا یہ طریق نہیں۔یہاں تو قلم دوات لے کر بیٹھنا چاہئے۔امام شافعی نے کہا کہ میں کل بھی بیٹھا تھا آپ