خطبات محمود (جلد 20) — Page 601
خطبات محمود ۶۰۱ سال ۱۹۳۹ء موت کے وقت کی بد دعا سے بہت ڈرتی ہیں۔کسی کے ماں باپ فوت ہو رہے ہوں تو ان کی کی اس وقت کی دُعا یا بددُعا کو بہت اہمیت دی جاتی ہے تو خدا تعالیٰ کا وہ رسول جو سب پہلے اور پچھلے انبیاء کا سردار ہے اس کے مرنے کے وقت کی بد دعا کو کس قدر اہمیت حاصل ہونی چاہیئے اور لعنت کتنی بڑی لعنت ہے۔یا د رکھو اللہ تعالیٰ غیر محدود ہے۔باقی سب محدود ہیں۔غالباً اسی سلسلہ میں میں نے ایک قصہ بھی سنایا تھا کہ ایک دفعہ جمعہ کے روز ایک شخص مجھے ملنے آیا اور کہا کہ میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔میں نماز کے بعد مسجد ہی میں بیٹھ گیا۔وہ فقیری طرز کا آدمی تھا اور اباحتی طریق رکھتا تھا۔ان کا خیال ہے کہ جب انسان خدا کو پالے تو اسے نماز روزہ کی ضرورت نہیں کیونکہ نماز روزہ بطور سواری کے ہیں اور جب کوئی سالک یار کے در پر پہنچ جائے تو پھر اُسے کسی سواری کی کیا ضرورت۔اس وقت سوار رہنا تو گستاخی ہے۔اسی عقیدہ کو مد نظر رکھ کر اس نے مجھ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کشتی میں بیٹھ کر دریا کے پار جانا چاہے تو جب وہ دوسرے کنارے پر پہنچ جائے اس وقت بیٹھا رہے یا اُتر جائے ؟ مجھے اس وقت تک معلوم نہ تھا کہ وہ کن خیالات کا آدمی ہے مگر جونہی اس نے سوال کیا اللہ تعالیٰ نے معا میرے دل میں ڈال دیا کہ یہ ابا حتی طریق کا آدمی ہے۔یہ سوال سُن کر لازما ہر شخص یہی کہے گا کہ جب کنارہ آ گیا تو کشتی سے اتر جانا چاہئے لیکن اگر میں اُسے یہ جواب دیتا تو وہ کہتا کہ نماز روزہ وغیرہ تو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے ذرائع ہیں جب انسان پہنچ جائے تو پھر ان کا کیا فائدہ؟ مگر اللہ تعالیٰ نے معا میرے دل میں اس کے ارادہ کو ظاہر کر دیا اور میں نے جواب دیا کہ جس دریا کو پار کرنے کے لئے وہ کشتی میں بیٹھا ہے اگر تو وہ محدود ہے تو کنارہ پر پہنچ کر اُتر جانا چاہئے لیکن اگر غیر محدود ہے تو جہاں اس کو خیال ہو کہ کنارہ آ گیا وہ سمجھے یہ میری نظر کا قصور ہے۔وہ جہاں اُتر ا و ہیں ڈوبا کیونکہ غیر محدود دریا کا کنارہ آ ہی نہیں سکتا۔میں نے کہا آپ جس دریا کا ذکر کر رہے ہیں وہ محدود ہے یا غیر محدود؟ اگر تو غیر محدود ہے تو جہاں یہ خیال کیا کہ کنارہ آ گیا ہے وہیں ڈوبے گا کیونکہ غیر محدود دریا کے متعلق یہ خیال کہ کنارہ آ گیا نفس کا دھوکا ہے۔پس ہمارا خدا غیر محدود ہے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ترقی خدا تعالیٰ کے مقام کے لحاظ سے دیکھی جائے تو ماننا پڑے گا کہ