خطبات محمود (جلد 20) — Page 591
خطبات محمود ۵۹۱ سال ۱۹۳۹ء کیوں بنتے ہو۔اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے کہ تم لیت و لعل کرتے ہو یا واقع میں تمہیں ادا کرنے کی توفیق نہیں۔یا تم نے محض لوگوں کی واہ واہ کے لئے اپنا نام لکھا دیا تھا اور تم نے سمجھا کہ چلو دس سال تک تحریک جدید کی لسٹ میں ہمارا نام تو آتا رہے گا نہ ادا ہوا نہ سہی۔ان تمام باتوں کو خدا جانتا ہے اور خدا کے ساتھ ہی تمہارا معاملہ ہے۔اگر تم تو فیق کے باوجود ادا نہیں کرتے تو تم گنہگار ہو اور یہ گناہ بعض کو دو سال سے ہو رہا ہے ، بعض کو تین سال سے ہو رہا ہے اور بعض کو چار سال سے ہو رہا ہے۔اسی طرح اگر تم کو ظاہری حالات کے مطابق توفیق نہیں اور توفیق ملنے کے آثار بھی نظر نہیں آتے تو تم کیوں ہمت نہیں کرتے اور اپنا نام لسٹ میں سے کٹوا کر سلیٹ کو صاف نہیں کر لیتے ؟ اس طرح تم گناہ سے بھی بچ جاؤ گے اور ہم بھی صحیح طور پر اندازہ لگا سکیں گے کہ کتنے لوگ اس تحریک میں شامل ہیں۔پس میں تحریک جدید کے تمام بقایا داران سے کہتا ہوں کہ اپنے اپنے بقائے ادا کرو اور اگر تم بقائے ادا نہیں کر سکتے تو معافی لے لو اور اپنا نام لسٹ میں سے کٹوالولیکن چونکہ عام رنگ میں بات کہہ دینے سے بعض دفعہ فوری طور پر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا اس لئے میں اب یہ اصول مقرر کر دیتا ہوں کہ پہلے چار سالوں کے تمام بقایا داران کو ۳۱ رمئی تک مہلت دی جاتی ہے۔۳۱ رمئی تک جو لوگ اپنے بقائے ادا نہیں کریں گے سوائے ان کے جو مہلت لے لیں یا دفتر کی منظوری سے ادا ئیگی کا کوئی وقت مقرر کر دیں اُن کے نام لسٹ میں سے کاٹ دیئے جائیں گے اور میں دفتر کو بھی ہدایت کرتا ہوں کہ وہ تمام بقایا داران کے بقائے نکال کر ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ چٹھی لکھ دے جس میں یہ ذکر ہو کہ آپ کے ذمہ تحریک جدید کا فلاں فلاں سال کا اتنا بقایا ہے۔۳۱ رمئی تک ہم آپ کو مہلت دیتے ہیں اس عرصہ میں اگر آپ اپنا وعدہ پورا کر دیں گے تو آپ کا نام اس لسٹ میں رہے گا ور نہ ہم سمجھیں گے کہ آپ نادہند ہیں اور ہم اس بات پر مجبور ہوں گے کہ آپ کا نام اپنی لسٹ میں سے کاٹ دیں۔معافی کے طور پر نہیں بلکہ مجرم کے طور پر مگر اس کی میں وہ شامل نہیں جنہوں نے مہلت لے لی ہے یا آئندہ مہلت لے لیں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو حالات کے مطابق مزید مہلت لے لیتے ہیں۔ایسے لوگ گنہگار نہیں کیونکہ اُنہوں نے دلیری سے کام لیا اور کہہ دیا کہ ہمیں فلاں مجبوری تھی جس کی وجہ سے ہم وعدہ پورا نہ کر سکے۔