خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 586

خطبات محمود ۵۸۶ سال ۱۹۳۹ء اس تحریک میں اس وقت تک پانچ ہزار چھ سو دوستوں نے حصہ لیا ہے۔حالانکہ ہماری جماعت لاکھوں کی ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ لاکھوں آدمی گنہ گار ہیں ممکن ہے ان میں سے کئی ایسے ہوں جنہیں اس میں حصہ لینے کی توفیق ہی نہ ہو۔کئی ایسے ہوں جنہیں تو فیق تو ہو مگر دل کی کمزوری کی وجہ سے وہ ڈرتے ہوں کہ اگر ہم نے وعدہ کیا تو ممکن ہے اسے پورا نہ کر سکیں اور اس طرح گنہ گار ٹھہر ہیں۔اسی طرح ممکن ہے بعض اور حالات کی وجہ سے اس تحریک میں حصہ نہی لے رہے ہوں۔مگر بہر حال وہ گنہگار نہیں کیونکہ انہوں نے کوئی وعدہ نہیں کیا مگر وہ ضرور گنہگار ہے جو پانچ ہزار چھ سو میں اپنا نام لکھا تا اور پھر نہ تو اپنے چندہ کوادا کرتا ہے نہ مہلت لیتا ہے اور نہ معافی لیتا ہے۔دیکھو صحابہ میں نیکیوں میں حصہ لینے کا کتنا بجوش پایا جاتا تھا۔جس طرح آج تم یہاں جمعہ کے لئے جمع ہو اُسی طرح ایک دفعہ صحابہ مسجد میں جمعہ کے لئے جمع ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے خطبہ شروع کر دیا۔جب آپ خطبہ فرما رہے تھے تو ایک شخص آیا جس کے جسم پر پورے کپڑے نہیں تھے صرف ایک کپڑا تھا اور وہ بھی پھٹا ہو ا۔جب وہ بیٹھنے لگا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے سنتیں پڑھی ہیں؟ وہ کہنے لگا یا رَسُول اللہ ! میں تو ابھی کام سے اُٹھ کر آیا ہوں سنتیں پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔آپ نے فرما یا پہلے سنتیں پڑھو اور پھر بیٹھو۔چنانچہ اُس نے سنتیں پڑھیں اور بیٹھ گیا۔رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ میں صحابہ کو صدقہ و خیرات کی تحریک کی۔شائد سردی کا موسم آیا می ہوگا اور غرباء کو ضرورت ہو گی۔جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ نے اُٹھ اُٹھ کر گھروں کی سے زائد کپڑے لانے شروع کر دیئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کپڑوں کا ڈھیر لگا دیا۔آپ نے وہ کپڑے غرباء میں بانٹنے شروع کر دیئے۔بانٹتے وقت آپ نے اُس کی آدمی کو بھی بلایا اور فرمایا تمہارے پاس لباس نہیں۔یہ دو چادر میں لو ایک کا تہہ بند بنالو اور ایک اوپر کا جسم لپیٹنے کے لئے رکھ لو۔جب اگلا جمعہ آیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ پڑھانے لگے تو پھر وہی شخص جلدی جلدی گھبرایا ہوا آیا۔معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے وعظ پر جس قدر کپڑے اکٹھے ہوئے تھے وہ غرباء کی ضروریات کے لئے کافی نہ ہوئے تھے اور ابھی اور کپڑوں کی ضرورت تھی۔اس لئے آپ نے خطبہ میں پھر صدقہ کرنے کی