خطبات محمود (جلد 20) — Page 553
خطبات محمود ۵۵۳ سال ۱۹۳۹ء خدا تعالیٰ سے کوئی دُعا نہ کریں۔ایسا نہ ہو کہ خدا صحیح راہنمائی کر دے یا یہ کہ اگر دُعائیں کی گئیں تو نعوذ باللہ خدا بجائے ہدایت دینے کے گمراہ کر دے گا۔پس اگر وہ اعلان کر دیتے کہ آج رات خدا تعالیٰ سے کوئی دُعا نہ مانگی جائے اور اگر خدا کچھ بتائے بھی اُس پر کان نہ دھرا جائے ایسا نہ ہو کہ وہ فریب میں آجائیں تو دنیا خود بخود فیصلہ کر لیتی کہ کس نے صحیح راستہ اختیار کیا ہے اور کس نے غلط مگر اُنہوں نے بجائے اس کے کہ وہ راستہ اختیار کرتے جو صحیح تھا ہمارے طریق عمل پر اعتراض کر دیا اور اسے ایک بہت بڑی خفیہ سازش قرار دے دیا۔اسی طرح آجکل کے مفسدین نے کیا۔اُنہوں نے بھی جھوٹ اور فریب سے کام لیتے ہوئے اعلانوں پر اعلان کرنا شروع کر دیا کہ ہماری روٹی بند کر دی گئی ، ہمارا پانی بند کر دیا گیا، ہمارا دودھ بند کر دیا گیا۔ہم حیران کہ یہ کیا بات ہے؟ ہم نے تو ایسا کوئی حکم نہیں دیا ، ان کی روٹی کس طرح بند ہوگئی اور ان کا دودھ پانی کس نے روک لیا ؟ ہم دکانداروں سے پوچھتے تو وہ کہتے کہ ہم سے روزانہ وہ لوگ دودھ کی اور دوسری ضروریات کی چیزیں لے جاتے ہیں مگر شر یہ مچایا جا تا کہ ہم پر ظلم کیا جاتا ہے ، ہمیں دُکھ دیا جاتا ہے ، ہمیں دکانوں سے سودا تک خرید نے نہیں دیا جاتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سودا سلف کے معاملہ میں محکمہ کی میری اجازت سے یہ ہدایت تھی کہ جو ضروریات زندگی سکھوں، ہندوؤں اور غیر احمدی دکانداروں سے مل سکتی ہوں وہ احمدی دکانداروں کی طرف سے نہ دی جائیں اور جو نہ مل سکتی ہوں وہ ضرور دی جائیں لیکن اس میں بھی ایک حکمت تھی اور وہ یہ کہ وہ یہ شور مچارہے تھے کہ احمدی ہمیں مار ڈالنا چاہتے ہیں۔اس صورت میں اگر احمدی دکانداروں کو انہیں ہر قسم کا سودا دینے کی اجازت ہوتی اور کسی دن ان کا کوئی فرد بیمار ہو جاتا تو وہ یہ شور مچا دیتے کہ فلاں احمدی دکاندار کے ذریعہ ہمیں زہر دی گئی ہے۔اس قسم کے امکانات کو روکنے کے لئے ہم نے ہدایت دے دی کہ جو ضروریات زندگی انہیں غیروں سے بآسانی میسر آ سکتی کی ہوں وہ تو احمدی دکاندار نہ دیں مگر جو چیزیں ان سے نہ مل سکتی ہوں وہ احمدی دکاندار ضرور دے دیا کریں اور اس کے لئے محکمہ نے ان سے پوچھا کہ جن دکانداروں پر انہیں اعتبار ہو ان کے نام بتا دیں ہم انہیں اس قسم کی اشیاء کے دے دینے کی اجازت دے دیں گے۔مگر ان کے مد نظر چونکہ محض شور مچانا اور اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنا تھا اس لئے انہوں نے شور مچانا ج