خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 552

خطبات محمود ۵۵۲ سال ۱۹۳۹ء یہ لکھا ہے کہ میں نے لوگوں سے کہا کہ دُعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ جماعت کی صحیح راہنمائی کرے اور اسے فتنہ سے بچائے۔میں نے انہیں لکھا کہ اگر یہ سازش ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور میں دونوں سازش میں شریک تھے اور یہ کہ میں نے فریب دے کر لوگوں کو کہا کہ تم خدا سے پوچھو کہ حقیقت کس طرف ہے۔پھر خود بخود تم پر کھل جائے گا کہ سچی بات کونسی ہے۔گویا پہلے میں نے خدا سے سازش کی اور اسے غیر جانبدار رہنے کی بجائے اپنے ساتھ شامل کر لیا پھر میں نے ج لوگوں کو فریب دے کر کہا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو چلو خدا سے جا کر پوچھ لو کہ حق میرے ساتھ ہے یا میرے مخالفوں کے ساتھ۔پس اس صورت میں مجھ پر ہی سازش کا الزام عائد نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کو بھی نعوذ باللہ اس سازش میں شریک ماننا پڑتا ہے اور اگر خدا واقع میں غیر جانبدار ہے تو پھر میں نے جب یہ کہا کہ تم دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ جماعت کے قلوب کی صحیح راہنمائی کرے اور اسے فتنہ اور ٹھوکر سے محفوظ رکھے تو اس کے معنے یہ تھے کہ میں نہیں چاہتا کہ میری مرضی دُنیا کی کے سامنے آئے بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ جو کچھ خدا کی مرضی ہے وہی پوری ہو۔اب میرا اُس وقت کا خیال اچھا تھا یا بُرا۔یقیناً ہر شخص یہ تسلیم کرے گا کہ اس کے پر کھنے کا اس سے زیادہ اچھا طریق اور کوئی نہیں ہوسکتا مگر اُنہوں نے اس خبر کا عنوان یہ رکھ دیا کہ مرزا محمود کی خفیہ سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا اور جیسا کہ میں نے بتایا اس عنوان سے متاثر ہو کر بعض قلیل الند بر احمدیوں نے کی مجھے چٹھیاں لکھیں کہ کیا یہ بات درست ہے اور میں نے انہیں لکھا کہ تم ایک خطر ناک ہیڈ نگ کی سے ہی دھوکا میں مبتلا ہو گئے۔نیچے کا مضمون بھی تو پڑھو اور دیکھو کہ اس میں کیا لکھا ہے۔اس میں کوئی محبہ نہیں کہ ہمیں اُس دن سخت گھبراہٹ تھی اور یہی وجہ تھی کہ میں نے دُعاؤں پر زور دیا اور دوستوں سے کہا کہ وہ اُٹھیں اور اللہ تعالیٰ سے دُعائیں کریں کہ جو خدا کی مرضی ہے وہ پوری کی ہو۔ایسا نہ ہو کہ ہماری یا دوسروں کی غلطی سے سلسلہ کو کوئی نقصان پہنچے لیکن اگر یہ نیکی نہیں تھی اور اگر لوگوں کو دعاؤں کے لئے جگانا اور کہنا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا ؤ اور عرض کرو کہ اے خدا ! کی سلسلہ کو ہر فتنہ سے محفوظ رکھ اور اس نہایت ہی مُشکل گھڑی میں ہماری صحیح راہنمائی فرما ایک کی سازش تھی تو چاہئے تھا کہ وہ لوگ اس کے مقابلہ میں یہ اعلان کر دیتے کہ آج رات کوئی شخص کی دُعا کے لئے نہ اُٹھے بلکہ جو پہلے تہجد کے لئے اُٹھا کرتے ہوں وہ بھی آج رات سوئے رہیں اور