خطبات محمود (جلد 20) — Page 482
خطبات محمود ۴۸۲ سال ۱۹۳۹ء اس پیشگوئی کا اس امر سے بھی ثبوت ملتا ہے کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی تو آپ گھبرا گئے اور آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا وہ آپ کو اپنے چازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو صحف انبیاء سے خوب واقف تھا اور کہا کہ ان کے پاس اپنی حالت کا ذکر کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اُنہیں باتیں بتائیں کہ کس طرح ان پر وحی نازل ہوئی ہے تو ورقہ بن نوفل نے کہا کاش میں اُس وقت جوان ہوتا اذُ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ جب تیری قوم تجھے مکہ سے نکال دے گی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحف سابقہ کی یہ پیشگوئیاں ان کے ذہن میں تھیں کہ عرب میں ایک عظیم الشان نبی کی پیدا ہو گا جسے اس کی قوم کے لوگ اپنے شہر میں سے نکال دیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات سنی تو آپ سخت حیران ہوئے کیونکہ اس وقت تک ابھی آپ نے کوئی دعوئی نہیں کیا تھا اور سارا عرب آپ کو راستباز اور امین سمجھتا اور آپ کو عزت کے مقام پر بٹھاتا تھا۔چنانچہ اسی حیرت کے عالم میں آپ نے ورقہ بن نوفل سے کہا أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمُ کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ اُنہوں نے کہا ہاں ضرور نکال دے گی۔اسے تو یہ ایک ایسی پیشگوئی تھی جو متعدد بارالہی کتابوں میں آچکی تھی اور اس کی طرف پہلے ہی واقف لوگوں کے ذہن منتقل تھے چنانچہ ورقہ بن نوفل نے اپنی گفتگو میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام بھی لیا اور کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ پر وحی لایا کرتا تھا۔تو پہلی کتابوں میں نہایت وضاحت کے ساتھ اس پیشگوئی کا ذکر تھا کہ عرب میں ایک عظیم الشان نبی آئے گا جو موسیٰ کا مثیل ہو گا۔اس کی قوم کے لوگ اسے کی اپنے شہر سے نکال دیں گے۔پھر وہ کسی اور مقام میں پناہ لے گا اور وہاں سے طاقت حاصل کر کے مکہ کو فتح کرے گا۔قرآن کریم میں بھی لَرَادُكَ إِلَى مَعَادٍ اور اَنْتَ حِلُّ بِهَذَا الْبَلَدِ وغیرہ الفاظ میں مختصراً اور متعد د دوسرے مقامات میں تفصیلاً یہ پیشگوئی بیان کی جاچکی تھی اور ایسی کی حالت میں کی جا چکی تھی کہ ابھی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ ہی میں تھے اور یہ خیال بھی نہیں کی کیا جاسکتا تھا کہ ملکہ کے لوگ کسی وقت آپ کو اپنے شہر میں سے نکال دیں گے مگر بہر حال اللہ تعالیٰ یہ خبر دے چکا تھا کہ کفار پہلے آپ کو مکہ سے نکالیں گے اور اس کے بعد خدا آپ کو فاتح کی حیثیت میں مکہ میں لائے گا۔یہ پیشگوئی تھی جس کا پورا ہونا مقدر تھا اور اس پیشگوئی کا پورا ہونا