خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 456

خطبات محمود ۴۵۶ سال ۱۹۳۹ء سامنے نہ آؤں۔وہ جاتا ہے ، ڈاکٹر کو جھک کر سلام کرتا ہے اور سرٹیفکیٹ لے جاتا ہے کہ یہ کام کے نا قابل ہے۔یہ پیشہ کی ذلت نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن اگر حقیقی طور پر ڈاکٹر کسی کو مشورہ دے کہ اس کے لئے روزہ رکھنا مضر ہے تو گو وہ بظاہر تندرست بھی نظر آئے اس کے لئے روزہ رکھنا جائز نہیں ہو گا۔خواہ دُنیا اُسے تندرست سمجھتی ہو لیکن بیماری کے خیال سے روزہ چھوڑ نا جائز نہیں۔آج کی ہی میری مثال ہے۔میں جب صبح اُٹھا تو مجھے اسہال ہوا اور پیٹ میں درد بھی۔شیخ بشیر احمد صاحب میرے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔میں نے اُن سے کہا کہ میں اس وقت بیماری کے آثار معلوم کرتا ہوں مگر روزہ کی نیت سے سحری کھاتا ہوں۔اگر یہ اسہال بڑھے تو روزہ ترک کر دوں گا اور اگر اتفاقی طور پر اسہال ہو گیا ہے تو روزہ بچ جائے گا۔صبح کی نماز کے بعد میں سو گیا اور جب اُٹھا تو طبیعت صاف تھی۔وہ گویا وقتی بیماری تھی۔میں اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر جانتا تھا کہ طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے یہ بیماری کا عارضی حملہ ہے جو بعض اوقات یکدم مجھ پر ہو جایا کرتا ہے۔بعض دفعہ دیکھنے والا حیران ہوتا ہے کہ ابھی تو اچھے بھلے تھے مگر یکدم بیمار ہو گئے اور پھر آرام بھی فوراً ہو گیا حالانکہ بیماریاں اس رنگ میں بھی آتی ہیں۔اس کے بعد میں دکانداروں کو بھی ہدایت کرتا ہوں اور دفتر کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ دیکھیں اس پر عمل ہوتا ہے یا نہیں اس کے متعلق دفتر کو ہدایت دیتے ہوئے مجھے شرم محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس قسم کی نگرانی کی ضرورت تو وہاں ہوتی ہے جہاں مذہب نہ ہو۔احمدی دکانداروں کا خدا تعالیٰ سے واسطہ میرے ذریعہ سے نہیں۔اگر وہ اسے میرے ذریعہ رکھیں گے تو گھاٹے میں رہیں گے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ اگر میں نے عذاب دینا ہوتا تو کبھی کا ہلاک کر دیتا۔سے پس اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرضی پر عذاب آنے کی صورت میں لوگ مارے جاتے تو جو میرے ذریعہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھیں وہ تو بہت زیادہ خطرہ میں ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا علم، خشیت اللہ اور ہر چیز مجھ سے کہیں زیادہ تھی۔پس ان کی مرضی سے عذاب آنے کی صورت میں اگر تبا ہی جلدی آ سکتی تھی تو میری مرضی پر تو کہیں زیادہ جلدی آئے گی۔پس ہمارے دکانداروں