خطبات محمود (جلد 20) — Page 436
خطبات محمود ۴۳۶ سال ۱۹۳۹ء یہود سے ہٹلر کی جو مخالفت ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ یہودی ایک ایسے مذہب کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جو انسانی اعمال میں بھی اسی طرح دخل دیتا ہے جس طرح انسانی افکار میں۔وہ مذہب صرف عقائد ہی نہیں سکھا تا بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ فلاں چیزیں کھاؤ ، فلاں نہ کھاؤ ، شادی بیاہ میں اِن اِن امور کو ملحوظ رکھو، تمدنی اور تجارتی تعلقات اس اس طرح قائم کرو اور یہ امر ہٹلر کی حد برداشت سے باہر ہے۔وہ کہتا ہے صرف ایک قانون چلے گا دو نہیں چل سکتے اور چونکہ یہ اپنے مذہب کے حکم کے ماتحت اس بات پر مجبور ہیں کہ اگر میرا حکم اس کے احکام کے خلاف ہو تو اسے نہ مانیں۔اس لئے اس بغاوت اور نافرمانی کی روح کوکچل دینا ہی بہتر ہے۔اب بتاؤ ایسی حکومت جہاں بھی قائم ہوگی وہاں اسلام اس کی زد میں آئے گا یا نہیں آئے گا۔اسلام نے تو یہودیت سے بہت زیادہ اعمال کی تفاصیل بیان کی ہیں۔اس کے یہ معنے نہیں کہ ہٹلر لا مذہب ہے۔وہ مذہب کو مانتا ہے مگر وہ کہتا ہے مذہب کا صرف اتنا اختیار ہے کہ وہ کہے ایک خدا ہے یا دو خدا ہیں یا تین خدا ہیں۔اس سے زیادہ کوئی بات منوانے کا وہ قطعا حق نہیں کی رکھتا۔پس وہ لامذہب نہیں بلکہ مذہب کا قائل ہے بلکہ ان لوگوں کا مخالف ہے جو لا مذہب ہیں اور وہ ان پر حملہ کرتا اور کہتا ہے کہ یہ لوگ جو لا مذہب ہیں اپنی قوم کے دشمن ہیں کوئی نہ کوئی مذہب ضرور ہونا چاہئے کیونکہ مذہب اتحاد پیدا کرتا ہے لیکن مذہب کا دخل صرف یہیں تک ہے کہ وہ انسانوں کو بتادے کہ وہ کیا عقائد رکھیں۔انسانی زندگی کے متعلق قواعد بنانا اس کا کام نہیں یہ حکومت کا کام ہے۔غرض ہٹلر کے نزدیک ایسے خدا کو نہ صرف برداشت کیا جاسکتا ہے بلکہ اس سے فائدہ بھی اُٹھایا جا سکتا ہے جو آسمان پر بیٹھا رہے اور آسمان تک ہی اس کا کام محد ودر ہے۔زمین سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔زمین سے صرف ہٹلر کا ہی تعلق ہونا چاہئے۔اس عقیدہ کی موجودگی میں جو قوم بھی اس کے ماتحت رہے گی اگر وہ مذہبی احکام کی پیرو ہو گی تو وہ کبھی چین اور امن سے زندگی بسر نہیں کر سکے گی اور اسلام تو یقیناً ایسی تعلیم سے ٹکراتا ہے اور یہی ہٹلر کے یہودیوں سے ٹکراؤ کی وجہ ہے۔یہودی جرمنی میں پچاس ساٹھ لاکھ ہیں اور سارے ملک کی آبادی آٹھ کروڑ ہے۔گویا جرمنی کی آبادی کا آٹھ فیصدی حصہ یہودی ہیں۔مگر وہ چونکہ اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں اس لئے ہٹلر کو بُرا محسوس ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے ان یہودیوں کو میری تائید کی