خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 435

خطبات محمود ۴۳۵ سال ۱۹۳۹ء مذہب کہتا ہے وہ چیز نہ کھاؤ۔تو اب یہ میری اور اس کی لڑائی ہے اور یہ لڑائی میں برداشت نہیں کی کر سکتا۔میں یہی چاہتا ہوں کہ جو کچھ میں کہوں وہی ہو نہ وہ جو کہ کسی کو اُس کا مذہب بتائے۔پس اگر کسی مذہب کے اقتصادی ، تجارتی اور تمدنی قوانین مذہب نے بنائے ہوں تو اس مذہب کو ہم اپنے ملک میں پھیلنے اور اس کے پیروؤں کو اپنے اندر بڑھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔یہودیوں کا وہ اِسی لئے مخالف ہے کہ یہودیت نے تفصیل کے ساتھ تمدن کے متعلق احکام دیئے ہیں اور کھانے پینے کے مسائل بیان کئے ہیں۔انہیں ان کے مذہب نے کہا ہے کہ یہ کھاؤ اور وہ کی نہ کھاؤ، یوں کرو اور اُس طرح نہ کرو۔اب یہودی جب اپنے مذہب کے احکام پر عمل کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا موسیٰ کون تھا اور اس نے کیا حکم دیا۔تمہیں وہی حکم ماننا پڑے گا جو میں دے رہا ہوں۔اس نے اسی ضمن میں عیسائیت پر بھی اعتراض کئے ہیں۔بعض لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ ہٹلر عیسائیت کا دشمن ہے حالانکہ ہٹلر عیسائیت کا دشمن نہیں بلکہ وہ لکھتا ہے کہ اصلی عیسائی میں ہی ہوں۔باقی عیسائی تو انجیل پر عمل ہی نہیں کر رہے۔وہ کہتا ہے انجیل میں تو صرف چند عقائد کی تعلیم ہے۔اس نے شریعت کوئی تجویز نہیں کی لیکن اب کلیسیا لوگوں کے اعمال میں بھی دخل دینے لگ گیا ہے اور اس طرح اس نے سیاسیات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔اس لئے حکومت مجبور ہے کہ کلیسیا کو پھر اس کی حد پر لا کر کھڑا کر دے۔اب بتاؤ اسلام ایسے ملک کی میں کہاں رہ سکتا اور کس طرح ترقی اور نشونما پاسکتا ہے۔اسلام نے تو یہودیت سے بھی بڑھ کر کی تفصیلی احکام اور حرام حلال کے مسائل بیان کئے ہیں۔پس ایسی حکومت کے ماتحت رہنے کے معنے ہیں کہ اسلام پر ہم عمل نہ کر سکیں۔کیونکہ ہٹلر کا یہ قائم کردہ اصل ہے کہ حکومت کے ماتحت اسی قسم کی دو عملی برداشت نہیں ہو سکتی کہ میں کچھ کہوں اور بعض لوگ بجائے اس پر عمل کرنے کے یہ کہیں کہ ہمارے مذہب نے اس کے خلاف تعلیم دی ہے۔فرض کرو کسی وقت جرمنی میں سخت قحط کی پڑتا ہے اور اس کی حکومت میں مسلمانوں کا بھی عنصر ہے اس علاقہ میں سو ر زیادہ ہوتے ہیں وہ حکم دے دیتا ہے کہ سب لوگ سؤ رکھا ئیں۔اب ایک مسلمان تو یہ حکم سنتے ہی کہہ دے گا کہ میں سؤ رنہیں کھاتا۔میرے مذہب نے منع کیا ہوا ہے مگر وہ کہے گا تم عجیب احمق ہو۔حکومت میری ہے یا تمہارے مذہب کی تمہیں میری بات ماننی پڑے گی اور ضرور سؤر ہی کھانا پڑے گا۔