خطبات محمود (جلد 20) — Page 417
خطبات محمود ۴۱۷ سال ۱۹۳۹ء آتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اس کو محفوظ رکھتا ہے اور نبی کی صداقت کو نمایاں فرما دیتا ہے۔دوسری قسم عذابوں کی وہ ہے جو کسی مقام کے تمام کے تمام لوگوں کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ایسے عذاب اس مقام پر اس وقت تک نہیں آیا کرتے جب تک کہ نبی اور رسول اس مقام پر موجود ہو جیسا کہ حضرت لوط علیہ السلام کے زمانہ میں ان کی بستی کو تہ و بالا کر دیا گیا اور کوئی فرد بشر زندہ نہ رہا۔مگر یہ عذاب اُس وقت تک نہ آیا جب تک حضرت لوط علیہ السلام اس بستی میں موجود رہے۔شے اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کے وقت میں چونکہ ان کی تمام کی تمام بستی کو ہلاک کرنا تھا اس لئے طوفان کا عذاب اُس وقت تک نہ آیا جب تک اللہ تعالیٰ نے کشتی کے ذریعہ ان کی حفاظت کا انتظام نہ فرما دیا۔اب میں اس آیت کا اصل مفہوم بیان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا كان الله ليُعَذِّبَهُمْ وَانتَ فيهم کہ اللہ عذاب نہیں کرنے والا تھا ان پر درآنحالیکہ تو ان میں تھاوَ مَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُون اور نہیں ہے اللہ عذاب کرنے والا ان پر درآنحالیکہ وہ استغفار کرنے والے ہوں۔اس کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ اہلِ مکہ پر ایک خاص قسم کا عذاب جس کا ذکر تو ریت وغیرہ میں بطور پیشگوئی آیا ہوا تھا نہیں آ سکتا تھا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں موجود تھے۔توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قوم کے لوگ اپنے شہر سے نکال دیں گے۔اُس وقت آپ ان پر چڑھائی بھی کریں گے اور ایک سال کے بعد ان پر عذاب کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔کے چنا نچہ بدر کی لڑائی ایک سال بعد ہوئی اور کچھ سال بعد مکہ فتح ہوا جبکہ آپ حسب پیشگوئی دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔یہ عذاب اُس وقت تک نہیں آ سکتا تھا جب تک آپ اپنے شہر سے نکالے جا کر کسی دوسرے شہر میں (جہاں کہ حسب پیشگوئی آپ کا استقبال کیا جانا تھا ) نہ چلے جاتے۔یہ عذاب اہل مکہ نے اپنے ہاتھوں اپنے اوپر نازل کیا۔اگر یہ لوگ رسولِ کریم کی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے شہر سے نہ نکالتے تو اس کا بہت کم امکان تھا کہ آپ کی چھوٹی سی جماعت مشرکین مکہ پر غالب آ سکتی مگر جب اُنہوں نے آپ کو مکہ سے نکال دیا اور اہل مدینہ نے آپ کو پناہ دی اور آپ کے مددگار ہوئے تب آپ کو یہ قوت حاصل ہوئی کہ مکہ میں آپ