خطبات محمود (جلد 20) — Page 416
خطبات محمود ۴۱۶ سال ۱۹۳۹ء اسی طرح ہمارے زمانہ کے رسول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں اور آپ کی موجودگی میں عذاب نازل ہوئے۔آپ کے زمانہ میں ہندوستان میں جب طاعون کا عذاب آیا تو آپ کے اپنے قصبہ میں بھی یہ عذاب نمودار ہوا۔پھر آپ کے زمانہ میں زلزلے آئے اور وہ زلزلہ بھی آیا جو کہ قادیان میں بھی محسوس کیا گیا۔ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ درست نہیں کہ جہاں اور جس وقت نبی موجود ہو وہاں کی کوئی عذاب نہیں آتا۔بات اصل میں یہ ہے کہ عذابوں کی کئی قسمیں ہیں۔بعض وہ عذاب ہیں جو کہ نبی کے زمانہ میں ان کی قوم پر آتے ہیں اور اس وقت آتے ہیں جبکہ نبی ان میں موجود ہوتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں طاعون کا عذاب آیا اور قادیان میں بھی زور کے ساتھ طاعون پڑی۔نیز زلزلہ بھی آپ کے زمانہ میں اور قادیان میں بھی آیا۔اس میں اس قدر شدت تھی کہ اس وقت میں نے دروازہ کی کنڈی کھولنے کی کوشش کی مگر جب میں ہاتھ ڈالتا تو زلزلے کے جھٹکے سے کنڈی میرے ہاتھ سے دُور چلی جاتی اور میں بڑی مشکل سے کنڈی کھول سکا۔اس قسم کے عذاب اس وقت آیا کرتے ہیں جبکہ نبی موجود ہوتا ہے بلکہ رسول کی آمد کے ساتھ ہی ایسے عذاب آنے شروع ہو جاتے ہیں اور یہ نبی کی صداقت کے نشان بنتے ہیں۔اس قسم کے عذابوں سے یہ نہیں ہوا کرتا کہ کوئی ایک بستی یا ایک ملک سارے کا سارا تباہ ہو جائے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایسے عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بعض بچا لئے جاتے ہیں اور اس طرح اس رسول کی صداقت کا نشان ظاہر کیا جاتا ہے۔مثلاً جب طاعون قادیان میں آئی اور شدت کے ساتھ آئی اور اس محلہ میں آئی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سکونتی مکان تھا اور آپ کے مکان کے اردگرد کے مکانوں میں بہت سی اموات ہوئیں تو آپ کے مکان میں ایک چوہا بھی نہ مرا۔حالانکہ حفظانِ صحت کی رو سے بوجہ اس کے کہ بہت سے لوگ آپ کے گھر میں اپنی حفاظت کے خیال سے جمع ہو گئے تھے وہاں مرض کا آجانا زیادہ قرین قیاس تھا مگر خدا تعالیٰ نے آپ کے گھر کو بالکل محفوظ رکھا اور اس طرح آپ کی صداقت کا نشان ظاہر کیا۔الغرض اس قسم کے عذاب رسول کے وقت میں بھی آتے ہیں اور اس کے گرد و پیش میں