خطبات محمود (جلد 20) — Page 401
خطبات محمود ۴۰۱ سال ۱۹۳۹ء ہماری جماعت بعض حکام کے مظالم کا تختہ مشق رہی گو اس کے اصل محرک ہندوستانی افسر تھے مگر بہر حال انگریز افسروں نے ان کے ساتھ تعاون کیا۔ان کی پیٹھ ٹھونکی اور ان مظالم میں ان کا کی تائیدی پہلو اختیار کیا۔پس یہ نہیں کہ میں انہیں مذہبی آدمی سمجھتا ہوں یا کامل دیانتدار اور ہر فتم کے ظلم سے مبرا یقین کرتا ہوں بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ ان کی پالیسی اور حکومتوں کی پالیسی سے بدر جہا بہتر ہے۔ان کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ لوگوں پر اتنی سختی نہیں کرنی چاہئے کہ وہ مقابلہ کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں اور یہی وجہ ہے کہ یہ ترقی کر رہے ہیں۔انگریز پہلے حکمران نہیں جنہوں نے کی دُنیا پر حکومت کی ہو بلکہ انگریزوں سے ایک لمبا عرصہ پہلے پین نے اپنی حکومت کی توسیع شروع کی چنانچہ جاپان کے پاس تک کا علاقہ یعنی فلپائن ، سپین کے ماتحت تھا۔امریکہ کا اکثر حصہ سپین کی کے ماتحت تھا، افریقہ کا کافی حصہ سپین کے ماتحت تھا اور یورپ کی تمام طاقتیں اس سے اسی طرح ڈرتی تھیں جس طرح آج حکومت انگریزی سے اور حکومتیں ڈرتی ہیں۔اس کے بعد پرتگیز اُٹھے اور اُنہوں نے ہندوستان اور دوسرے ممالک میں ترقی کی۔پھر ہالینڈ والے نکلے اور اُنہوں نے ترقی کی ، پھر انگلستان اور فرانس والے نکلے اور اُنہوں نے دُنیا میں ترقی کی مگر باقی جس قد رقو میں تھیں وہ آئیں اور مٹ گئیں کیونکہ ان میں ایمپائر بنانے کی قابلیت موجود نہ تھی۔وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ انہیں دوسروں پر غلبہ حاصل ہو جائے۔یہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگوں کو فائدہ بھی پہنچا ئیں۔گویا ان کی مثال بالکل اس عورت کی سی تھی جس کے متعلق کہانیوں میں لکھا ہے کہ اس کے پاس ایک مرغی تھی جو روزانہ ایک سونے کا انڈا دیتی۔اس نے خیال کیا کہ بجائے اس کے کہ روزانہ ایک ایک انڈا حاصل ہو کیوں نہ میں مرغی کو ذبح کر کے تمام انڈے اس کے اندر سے نکال لوں۔چنانچہ اُس نے سونے کے انڈے نکالنے کے لئے اسے ذبح کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرغی بھی مر گئی اور اُسے انڈے بھی نہ مل سکے۔وہ بھی جھٹ پٹ سارے انڈ نکالنے کی کوشش کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مرغی کر جاتی اور ان کی حرص بھی پوری نہ ہوتی مگر انگریز ذہین تھے اُنہوں نے کہا کہ لوگوں کو اتنا نہیں چوسنا چاہئے کہ ان میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے بلکہ انہیں بھی کھلانا چاہئے اور خود بھی فائدہ اُٹھانا چاہئے جسے بھینس کا ہوشیار مالک بھینس کو عمدہ چارہ کھلاتا ، اچھا پانی پلاتا اور اُس کی خوب خبر گیری کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے