خطبات محمود (جلد 20) — Page 400
خطبات محمود ۴۰۰ سال ۱۹۳۹ء موجودہ جنگ کو ہی لے لو اگر اس وقت انگریزی حکومت کی تباہی کے نتیجہ میں ہندوستانیوں کی کوئی ایسی قیمتی چیز بچ جاتی جس کے بچ جانے کو لوگوں کی بربادی یا حکومت کی بربادی سے زیادہ قیمتی سمجھا جاسکتا تو بے شک عقلمند لوگ یہی کہتے کہ ہندوستانی بے شک تباہ ہو جائیں اگر ساتھ انگریز بھی تباہ ہوں تو یہ قر بانی مہنگی نہیں مگر واقعات پر اگر غور کیا جائے تو ایسی کوئی قیمتی چیز ہمیں نظر نہیں آتی جو انگریزوں اور ہندوستانیوں کے تباہ ہو جانے سے دُنیا کے لئے محفوظ کی جاسکتی ہو بلکہ ہمیں اگر نظر آتا ہے تو یہ کہ انگریزی قوم اگر تباہ ہو تو ہندوستان اس کے ساتھ ہی تباہ ہوتا ہے اور تباہ بھی کسی بڑی چیز کو بچانے کے لئے نہیں بلکہ ایک بڑی چیز کو کھو کر تباہ ہوتا ہے۔میں نے جیسا کہ ایک پچھلے خطبہ جمعہ میں بتایا تھا انگریزی قوم کا میلان اس وقت ہندوستانیوں کے متعلق اس قسم کا ہے کہ وہ آئندہ انہیں زیادہ سے زیادہ آزادی دیں گے اور یہ بالکل ناممکن ہے کہ انگریز آب ہندوستان کو پیچھے کی طرف لے جائیں۔اب ہندوستانی آگے کی طرف ہی بڑھیں گے اور یقیناً اس جنگ کے بعد جو ہندوستان کو آزادی حاصل ہوگی وہ اس سے ی بہت زیادہ ہوگی جو اب ہندوستانیوں کو حاصل ہے لیکن اگر اس جنگ میں انگریز ہار جائیں اور ان کی جگہ کوئی اور قوم آجائے تو اس وقت ہندوستان کی وہی حالت ہو جائے گی جو غدر کے وقت تھی۔بلکہ اس سے بھی بدتر حالت ہونے کا امکان ہے اور میں یہ بھی بتا چکا ہوں کہ انگریزی قوم اپنے ماتحتوں پر بالطبع اتنی سختی نہیں کرتی جتنی سختی دوسری قو میں کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی کی ایمپائر میں بہت بڑی وسعت ہوئی۔کیونکہ کوئی بڑی شہنشاہیت دُنیا میں قائم نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے ماتحتوں سے حسنِ سلوک نہیں کرتی اور برطانوی ایمپائر کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ اپنے ماتحتوں سے سلوک کرنے میں ایک حد تک نرمی کرتی ہے۔انگریزوں کی ایمپائر بہت بڑی ایمپائر کی ہے اور یہ اسی جذبہ کی وجہ سے اپنی ایمپائر بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔دوسری قو میں جو اپنی ایمپائر بنانے میں کامیاب نہیں ہوئیں وہ اسی لئے نہیں ہوئیں کہ وہ سختی کرتی ہیں اور یہ نرمی کرتے ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ انگریز روحانی آدمی ہیں اُنہوں نے محض اپنے سیاسی فوائد کے لئے یہ رنگ اختیار کیا ہوا ہے۔مگر بہر حال یہ رنگ ہمارے لئے مفید ہے ورنہ غلطیاں ان سے بھی ہوتی ہیں اور ظلم برطانوی حکومت کے ذمہ دار حکام بھی کر لیا کرتے ہیں جیسے میں نے بتایا تھا کہ