خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 388

خطبات محمود ۳۸۸ سال ۱۹۳۹ء (صوفیا عموماً سبز عمامہ پہنا کرتے تھے اور جبہ ان کے جسم پر ہوتا تھا ) راجہ نے چند دن بینگن کی کھانے میں خوب افراط سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسے بواسیر ہوگئی پھر ایک دن جو اس نے دربار کیا تو پھر بینگن کا ذکر چھیڑ دیا اور کہنے لگا کہ ہم نے سمجھا تھا بینگن کوئی اچھی چیز ہے مگر معلوم ہو ا کہ وہ بہت بُری چیز ہے۔مجھے تو اس کے کھانے سے بواسیر ہوگئی ہے۔یہ سنتے ہی وہی درباری اُٹھا اور کہنے لگا حضور بینگن واقع میں نہایت بُری چیز ہے فلاں طبیب نے اس کے یہ نقصانات لکھے ہیں اور فلاں طبیب نے اس کے وہ نقصانات لکھے ہیں۔غرض اس نے وہ تمام نقصانات گن دیئے جو اطباء نے اس کے لکھے تھے اور آخر میں کہنے لگا حضور اس کی شکل بھی دیکھیں کیسی منحوس ہے۔یہ بیل میں لٹکا ہوا بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی چور کا ہاتھ منہ کالا کر کے پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہو۔کسی نے اسے کہا کہ تھوڑے ہی دن ہوئے ہمارے سامنے تو نے اس کی خوب تعریف کی تھی اور آج تو ہی اس کی مذمت کر رہا ہے تو وہ کہنے لگا میں راجہ کا نوکر ہوں بینگن کا نوکر نہیں۔تو انسانوں کی نوکری میں بھی بعض لوگ اطاعت کو درجہ کمال تک پہنچا ؟ دیتے ہیں۔حالانکہ انسان بعض دفعہ جھوٹ بھی بول لیتا ہے ، بعض دفعہ مبالغہ بھی کر لیتا ہے۔بعض کی دفعہ دوسرے کو گمراہ بھی کر دیتا ہے مگر وہ خدا جس کی اطاعت میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور جس نے کوئی حکم ایسا نہیں دیا جو نقصان پہنچانے والا ہو اس کے احکام کی اطاعت کا انسان وہ اہتمام نہیں کرتا جو دُنیوی ملازمتوں میں کرتا ہے۔حالانکہ اصل وجود جس کی اطاعت میں کسی کو دریغاتی نہیں ہونا چاہئے وہ خدا کا ہی وجود ہے۔باقی بندے تو جھوٹ بھی بول سکتے ہیں، فریب بھی کر سکتے ہیں ، گمراہ بھی کر سکتے ہیں اور صداقت سے بھی منحرف کر سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو نہ جھوٹ بولتی ہے، نہ گمراہ کرتی ہے ، نہ غلطی کھاتی ہے۔اس لئے خدا کے معاملہ میں اگر کوئی شخص وہی رنگ رکھتا ہے جو اس نوکر نے اپنے آقا کے متعلق رکھا تو وہ ضرور ہدایت پا جاتا ہے۔تم خود ہی سوچ لو جو شخص یہ کہہ دے کہ جو کچھ قرآن کہے گا وہی میں مانوں گا وہ کس طرح گمراہ ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص تھے وہ تھے تو ان پڑھ مگر اُنہوں نے دس بارہ حج کئے ہوئے تھے۔اُس زمانہ میں حج کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ بعض علاقوں میں ریل گاڑی کی