خطبات محمود (جلد 20) — Page 387
خطبات محمود ۳۸۷ سال ۱۹۳۹ء حکمت کے ماتحت کرتا ہے اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ایک نام حکیم بھی آیا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق جو پیشگوئی کی گئی کی ہے اس میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ يُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة وہ نبی ان کو کتاب اور حکمت سکھائے گا اور چونکہ حالات بدلتے رہتے ہیں اس لئے حکمت کے ماتحت احکام بھی بدلتے رہیں گے۔جب اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ ہو گا تو اس وقت ہم اسلام کو ترجیح دیں گے۔جب کی ہمارے جذبات غیرت کا اسلامی احکام سے مقابلہ ہو گا تو اس وقت ہم اسلامی احکام کو ترجیح یں گے اور جب ہمارے جذبات اور دوسروں کے جذبات کا مقابلہ ہو گا تو اس وقت اگر ہمارے جذبات نیکی پر مبنی ہوں گے تو ہم ان کو ترجیح دیں گے اور اگر دوسروں کے جذبات نیکی پر مبنی دکھائی دیں گے تو دوسروں کے جذبات کو ترجیح دیں گے۔غرض جس چیز میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہوتی ہے مومن تو وہی امر اختیار کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ مومن تو خدا کا بندہ ہوتا ہے اُسے کسی اور سے واسطہ ہی نہیں ہوتا۔پھر آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب بندوں کے نوکر آقا کے سوا کسی اور کی بات نہیں مانتے تو مومن اپنے خدا کا بندہ ہو کر کسی اور کی بات کس طرح مان سکتا ہے۔اسی ضمن میں آپ بطور مثال فرمایا کرتے تھے کہ ایک راجہ تھا جس نے ایک دن بینگن کا بھرتہ کھا لیا اور وہ کی اسے بہت ہی مزیدار معلوم ہوا۔دربار میں وہ بیٹھا ہوا تھا کہ اور باتوں کے دوران میں وہ کہنے لگا بینگن کی طرف پہلے ہمارا کبھی خیال ہی نہیں گیا تھا وہ تو بڑی مزیدار چیز ہے۔میں نے اس کا بھر نہ کھایا اور مجھے بہت ہی اچھا معلوم ہوا۔جب راجہ نے یہ بات کہی تو ایک درباری کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حضور بینگن کا کیا کہنا ہے فلاں طبیب نے اس کے یہ فوائد لکھے ہیں اور فلاں طبیب نے اس کے وہ فوائد لکھے ہیں۔آخر ہر چیز کے کچھ فائدے ہوتے ہیں اور کچھ نقصان۔بینگن کے کی بھی طبیبوں نے بہت سے فائدے لکھے ہیں اور بہت سے نقصان بھی لکھے ہیں۔اسے چونکہ راجہ کے خیال کی تائید کرنا مقصود تھا اس لئے اس نے صرف خوبیاں گننی شروع کر دیں اور کہا کہ حضور اس میں یہ بھی خوبی ہے اور وہ بھی خوبی ہے۔پھر کہنے لگا حضور اس کی ظاہری شکل بھی تو ملا حظہ فرمائیں بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی صوفی گوشتہ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہا ہو۔