خطبات محمود (جلد 20) — Page 366
خطبات محمود ۳۶۶ سال ۱۹۳۹ء اللہ تعالیٰ نے یہ سامان بھی کر دیا کہ وہاں ہم نے دیکھا کہ ایک لاری بھی کھڑی ہے حالانکہ وہ کی جنگل تھا ہم نے دریافت کیا تو لاری والے نے بتایا کہ ہم پر کوئی مقدمہ ہے اور جواب دہی کے لئے افسر کے پاس جارہے ہیں۔مالک گاؤں میں گیا ہوا ہے اور وہ اس کا منتظر ہے۔ہم نے اُسے کچھ امید دلائی اور کچھ لالچ دیا کہ اگر ہماری موٹر ٹھیک نہ ہو تو موٹر کو لاری کے ساتھ باندھ کر ہمیں گھر پہنچا دے یا کم سے کم کسی قصبہ تک جہاں موٹر ٹھیک ہو سکے اور اگر ٹھیک ہو جائے تو کی احتیاطاً ساتھ چلے کہ پھر موٹر کے دوبارہ خراب ہونے کی صورت میں ہماری مدد کرے۔اول تو وہ نہ مانا لیکن قریباً ایک گھنٹہ تک مرمت کرنے کے بعد جب موٹر درست ہوئی تو وہ ڈرائیور بھی ساتھ چلنے پر رضا مند ہو گیا۔وہ علاقہ کچھ میدانی تھا اور چڑھائی کم تھی لیکن جب ہم اس جگہ پہنچے جہاں سے دھر مسالہ کی چڑھائی شروع ہوتی ہے اور تیرہ میل سفر باقی رہ گیا تو اس نے آگے جانے سے انکار کر دیا۔ہم نے اسے بہت اُمید دلائی ، انعام کا لالچ دیا، مالک کی ناراضگی کی صورت میں اس کے پاس سفارش کرنے کو کہا مگر وہ آمادہ نہ ہوا۔وہ کہنے لگا کہ آپ کی موٹر ٹھیک چل رہی ہے اب کیا حرج ہے۔آپ اکیلے چلے جائیں۔میں نے پھر دُعا کی کہ یا الہی پھر جنگل کا جنگل ہی رہا۔رات کا وقت تھا اور اگر موٹر خراب ہوگئی تو دوسری سواری ملنے کی اُمید بھی نہیں کیونکہ وہاں رات کے وقت موٹروں اور لاریوں کا چلنا منع ہے۔میں نے دُعا کی اور کی میرے یہی الفاظ تھے کہ اب انسانی حد تو ختم ہو گئی اب تو ہی اپنے فضل سے انتظام فرما۔یہ دُعا کر کے میں نے موٹر کے چلانے کا اشارہ کیا قریب ترین جگہ وہاں سے لوئر دھر مسالہ تھی جو سات میل تھی۔ہماری موٹر ٹھیک چلتی رہی۔جب لوئر دھر مسالہ پہنچے تو میں نے عزیزم مرزا مظفر احمد صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ چلو دیکھیں شاید کوئی دوسری موٹر مل جائے تو اُسے ساتھ لے چلیں۔وہاں موٹر وغیرہ نہیں ہوتے مگر جب گئے تو دیکھا کہ اتفاق سے وہاں ایک موٹر موجود ہے اور معلوم ہوا کہ صبح اس نے کوئی سواری لے جانی ہے۔اس لئے پٹھان کوٹ سے آئی ہے۔ہم نے اس سے پوچھا تو ڈرائیور نے کہا کہ بہت اچھا میں اپر دھر مسالہ تک چھوڑ آتا ہوں۔اس وقت اس دوسری موٹر کے لینے کا خیال اس لئے ہوا کہ ہماری موٹر پر سواریاں زیادہ تھیں خیال تھا کہ سواریاں کم ہو جائیں گی تو ہماری موٹر کا خطرہ دور ہو جائے گا مگر جب سواریاں تقسیم کر کے