خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 355

خطبات محمود ۳۵۵ سال ۱۹۳۹ء کچھ سوچ سکے اور مشورہ دے سکے۔ان حالات میں اسے ذہنی لذت بھی کوئی حاصل نہیں ہوسکتی۔فرانس اگر جرمنی پر بمباری کرے تو جرمنی بھی اس کا انتقام لے سکے گا اور کہے گا کہ ہم نے بھی کچ خوب خبر لی اور اگر پولینڈ پر جرمنی حملہ کرے تو وہ بھی آگے سے جواب دے کہ ذہنی طور پر ضرور لڈت اندوز ہو سکتے ہیں کہ ہم نے بھی ان کو خوب سزا دی ہے مگر ہندوستان پر اگر حملہ ہو تو وہ کس منہ سے کہہ سکتا ہے کہ میں بھی بدلہ لیتا ہوں جب کہ اس کے پاس نہ کوئی ہم ہے نہ طیارہ ، نہ گولی اور نہ بارود۔اس صورت میں ایک ہندوستانی تو یہی کہتا ہوا گاؤں سے بھاگے گا کہ ہائے میری قسمت کی اگر ہندوستان کی طرف سے بمباری کا جواب بھی دیا جائے تو بھی ہندوستانی فخر نہیں کر سکتے کہ ہم نے بھی خوب خبر لی کیونکہ وہ تو نوکر ہیں اپنی تنخواہ کے لئے یا زیادہ سے زیادہ جان بچانے کے لئے لڑتے ہیں ملک میں قوم کے وفادار اور افتخار کے لئے نہیں مگر اپنی اس بے بسی کے با وجود کوئی عقلمند ہندوستانی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لڑائی انگریز کی ہے ہماری نہیں۔اگر کوئی یہ کہے تو وہ احمق ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ دشمن سے کہتا ہے کہ آ مجھے مار۔میں تو حیران ہوں کہ ہندوستان کے بعض عظمند اس وقت ایسی بیوقوفی کر رہے ہیں کہ ابھی سوچ رہے ہیں کہ ہم انگریزوں کا ساتھ دیں یا نہ دیں۔اگر وہ اپنے آپ کو انگریزوں کا دشمن بھی خیال کرتے ہیں تب بھی ایسا خیال کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ دو شخص جو ایک دوسرے کے دشمن ہوں ایک چھت کے نیچے ہوں کوئی بیرونی دشمن چھت پر بمباری کر رہا ہو اور وہ سوچیں کہ ہم اس وقت ایک دوسرے کی مدد کریں یا نہ کریں ایسا سوچنا حماقت ہے کیونکہ اگر وہ چھت گری تو دونوں کریں گے۔انگریزوں کے ساتھ ہندوستان کا تعلق ایسا گہرا ہے کہ خواہ کوئی ہندوستانی ان کا کتنا ہی دشمن کیوں نہ ہوا گر جنگ کے وقت یہ خیال کرتا ہے کہ میرے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ میں اس کی وقت انگریزوں کا ساتھ نہ دوں تو میرے نزدیک اس سے زیادہ احمق کوئی نہیں ہوسکتا۔انگریزوں کے متعلق خواہ بعض ہندوستانیوں کے جذبات معاندانہ ہوں خواہ غیر جانبدارانہ اور خواہ ہمدردانہ اگر وہ عقلمندی سے کام لیں تو انہیں انگریزوں کا ساتھ دینا پڑے گا۔غرض خواہ ہم ان کی کے دشمن ہوں خواہ ہمدرد اور خواہ غیر جانبدارا گر ہم عقلمند ہیں تو ہم مجبور ہیں کہ ان کا ساتھ دیں ورنہ زیادہ سے زیادہ نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلے ہمارے حاکم انگریز ہیں اور پھر جرمن یا روسی ہو جائیں گے