خطبات محمود (جلد 20) — Page 332
خطبات محمود ۳۳۲ سال ۱۹۳۹ء۔ہیں۔گویا کچھ تو ایسے تھے جنہوں نے جام شہادت پی لیا اور دنیا کے سامنے اُنہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ جو اقرار اُنہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا وہ اُنہوں نے پورا کر دیا مگر باقی اس قسم کے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے گو ابھی تک وہ اپنے اقرار کو پورا نہیں کر سکے یعنی اللہ کی راہ میں موت ان پر نہیں آئی لیکن ان کی کیفیت قلبی ایسی ہے کہ وہ ہر وقت موت کے انتظار میں رہتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید جن کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سَيْفٌ مِّنْ سُيُوفِ اللَّهِ کے الفاظ فرمائے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار سے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری زمانہ میں ایمان لائے تھے۔اُحد میں مسلمانوں کو جو نقصان پہنچا اُس کا موجب بھی یہی تھے۔یہ دراصل ان نو جوانوں میں سے تھے جو قوم کی نظروں میں بڑھ رہے تھے کی اور ترقی کر رہے تھے۔یہ اُحد میں کفار کے ایک دستہ کے کمانڈر تھے۔جب دشمن بھاگا اور کا فروں کو شکست ہو گئی تو ان کی نظر اچانک اس درّے پر پڑی جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ کی وآلہ وسلم نے دس آدمی مقرر کئے ہوئے تھے مگر اُنہوں نے غلطی سے اُس درے کو چھوڑ دیا تھا وہ کی فوراً بھانپ گئے کہ یہ ایک ایسا موقع نکل آیا ہے جسے ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے چنانچہ اُنہوں نے عکرمہ کو کہ وہ بھی نوجوان تھے اس طرف توجہ دلائی اور ان دونوں نے مل کر ایک چھوٹے سے دستہ کے ساتھ مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا ہے پھر جو واقعات ہوئے وہ کئی دفعہ بیان ہو چکے ہیں۔احادیث میں بھی مسلمان ان واقعات کو پڑھتے رہتے ہیں اور قرآن کریم میں بھی ان کا جی ذکر آتا ہے بلکہ ایک جگہ تو تفصیلی ذکر ہے۔تو ان واقعات کا موجب خالد ہی تھے اور اُحد کی جنگ تک یہ برا براسلام کے مقابلہ میں لڑتے رہے تھے۔غزوہ احزاب کے بعد یہ مسلمان ہوئے اور پھر انہوں نے اسلام میں ترقی کرنی شروع کر دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُوربین نگاہ نے انہیں ایسا بھانپا کہ فتح مکہ کے وقت ایک طرف کے کمانڈ رخو د رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور دوسری طرف کے کمانڈر خالد بن ولید تھے۔کے پھر غزوہ موتہ کے وقت بھی ان کے ہاتھ لشکر کی کمان آئی۔گورسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مقر ر نہیں کیا تھا اور اس وقت آپ کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ خالد سَيفٌ مِن سُيُوفِ اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔۔یہ اسلام کی قربانی کے لئے اس قدر تیار رہتے تھے کہ بہت کم مثالیں کی