خطبات محمود (جلد 20) — Page 275
خطبات محمود ۲۷۵ سال ۱۹۳۹ء بلکہ عقل اور فہم و فراست کی تیزی اس سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔اگر کسی کو ذہنی ارتقاء حاصل ہو جائے ، اس کا علم بڑھ جائے ، اس کی عقل تیز ہو جائے اور اس کے فہم و فراست میں زیادتی ہو جائے تو کیا یہ کوئی کم فائدہ ہے ؟ روپیہ تو ایک ادنیٰ سے ادنی چیز ہے اور پھر روپیہ بھی وہی شخص کماتا ہے جو عالم و ذہین ہو۔آخر وجہ کیا ہے کہ ایک شخص کروڑوں کروڑ روپیہ کما لیتا ہے اور دوسرا بھوکوں مرتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک میں علم وفہم کی زیادتی ہوتی ہے اور دوسرے میں علم و ہم نہیں ہوتا۔پس علم بذات خود ایک نہایت قیمتی اور مفید چیز ہے۔پھر جو شخص علم والا ہو گا وہ کی اگر فوج میں جائے گا تو اعلیٰ جرنیل بن جائے گا ، طب سیکھے گا تو اعلیٰ درجہ کا طبیب حاذق بن جائے گا، قانون سیکھے گا تو اعلیٰ درجہ کا بیرسٹر بن جائے گا۔گویا علم اُسے ہر میدان میں ترقی بخش دے گا تو روپیہ سے کسی چیز کی قیمت لگانا نہایت ادنی اور گرا ہو اتخیل ہے۔علم اپنی ذات میں ایک نہایت قیمتی چیز ہے خواہ اس کے بعد کسی کو روپیہ حاصل ہو یا نہ ہو۔دُنیا میں جس قد راد نی اقوام ہیں یہ کی کیوں ادنی اقوام کہلاتی ہیں؟ اسی لئے کہ ان میں علم نہیں۔اگر وہ بھی علوم سیکھ لیں تو اچھوت ، ہریجن اور چوہڑے چمار کے الفاظ ہی متروک ہو جائیں اور ان کے ماضی پر ایسا پردہ پڑ جائے کہ کسی کو معلوم تک نہ ہو کہ وہ بھی کبھی چوہڑے چمار رہ چکے ہیں۔ہمیشہ سچ اقوام جب ترقی کرتی ہیں تو رفتہ رفتہ وہ دوسری قوموں میں ملنا شروع ہو جاتی ہیں اور اس طرح وہ نئی قوموں کا حصہ بن کر ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہیں جو ان کی پہلی شکل کے مقابلہ میں بدرجہا بہتر ہوتی ہے جس طرح پانی دودھ میں مل جاتا ہے اور انسان یہ شناخت نہیں کر سکتا کہ دودھ میں پانی ملا ہوا ہے یا نہیں یا جس طرح پھل اور سبزیاں جب انسان کھاتا ہے تو وہ انسان کا جزو بن جاتی ہیں اسی طرح وہ قو میں دوسری قوموں میں مل کر ان کا ایک حصہ اور جزو بن جاتی ہیں۔کہیں دوسری قوم کے لڑکوں سے ان کی لڑکیاں بیاہی جاتی ہیں، کہیں جب لوگ ان کو علم اور تقویٰ میں بڑھا ہوا دیکھتے ہیں تو وہ اپنی لڑکیاں انہیں دے دیتے ہیں اور اس طرح جب آپس میں رشتے ناطے ہونے لگتے ہیں تو جیسے دودھ میں شکر مل جاتی ہے اسی طرح تو میں آپس میں مل جاتی ہیں اور ادنی کی اور اعلی کا امتیاز جا تا رہتا ہے مگر اس کا پہلا قدم تعلیم ہی ہے۔جب تک تعلیم نہ ہو نہ عقل بڑھتی ہے نہ ذہن میں تیزی پیدا ہوتی ہے ، نہ فہم و فراست میں زیادتی ہوتی ہے، نہ اُٹھنے بیٹھنے کے آداب