خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 274

خطبات محمود ۲۷۴ سال ۱۹۳۹ء آخر وہ محلہ کے پریذیڈنٹ ہیں اور ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے محلہ والوں کی تکالیف کو دور کریں اور اُن کی ترقی کا کوئی سامان اگر اُن کے امکان میں ہو تو اُسے ان کے لئے مہیا کریں کیونکہ پریذیڈنٹ بننے کی غرض خدمت کرنا ہے نہ کہ ایک نام اور عہدے کو حاصل کر کے بیٹھ رہنا۔پس جب خدام الاحمدیہ کے ممبر اُن کے پاس آئے تھے اور اُنہوں نے کہا تھا کہ ہم اپنے آپ کو ثواب کے لئے آپ کے محلہ کے لوگوں کی خدمت کے لئے پیش کرتے ہیں تو ان کو چاہئے تھا کہ وہ ان کے ممنونِ احسان ہوتے اور سمجھتے کہ یہ ہمارا کام تھا جو خدام الاحمدیہ سرانجام دینے لگے ہیں مگر بجائے اس کے کہ وہ ان کے ساتھ تعاون کرتے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب خدام الاحمدیہ ہم پر حکومت جتانے لگ گئے ہیں۔گویا ان کی مثال بالکل اس ٹھنڈے ملک والے آدمی کی سی ہے جسے کہا گیا کہ تو سائے میں آجا تو وہ کہنے لگا مجھے دو گے کیا ؟ خدام الاحمدیہ نے بھی کہا کہ آئیے ہم آپ کی خدمت کرتے ہیں اور محض اس لئے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ان پڑھوں کی تعلیم کا انتظام کر دیتے ہیں۔ہم خود تعلیم دلائیں گے خود معلمین کی نگرانی کریں گے اور انہیں سکھا پڑھا کر آپ کے حوالے کر دیں گے مگر بعض پریذیڈنٹوں نے یہ کیا کہ انہیں جواب تک نہیں دیا۔گویا اُنہوں نے اپنے عمل سے کہہ دیا کہ ہمارا اس بات سے کوئی تعلق نہیں۔تو جہاں مخلصین نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے اخلاص کا ثبوت دیا ہے وہاں بعض نے غفلت اور سستی بھی دکھائی ہے۔چنانچہ بعض کو جب لوگ پڑھانے کے لئے جاتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے پڑھ کے کیا لینا ہے؟ کیا پڑھنے کے بعد نوکری مل جائے گی ؟ یہ ویسا ہی جواب ہے جیسے نماز کے متعلق بعض نادان مسلمان دیا کرتے تھے۔اب تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو چکی ہے اور وہ نماز روزہ کی کی اہمیت کو سمجھنے لگ گئے ہیں مگر آپ کی بعثت سے پہلے جب انہیں نماز پڑھنے کے لئے کہا جاتا تو وہ کی جواب میں کہا کرتے کہ نماز پڑھ کر ہم نے کیا لینا ہے؟ کیا نماز پڑھنے سے روٹی مل جائے گی ؟ یا کپڑا مل جائے گا یا روپیہ پیسہ مل جائے گا ؟ گویا نماز کا بدلہ وہ روٹی اور کپڑے کی شکل میں کی ڈھونڈا کر تے تھے۔اسی قسم کا جواب اب بعض احمد یوں نے دے دیا ہے کہ ہم نے پڑھ کر کیا لینا ہے؟ کیا پڑھ کر نوکریاں مل جائیں گی ؟ حالانکہ صرف نوکری ہی انسان کے لئے قیمتی شے نہیں