خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 259

خطبات محمود ۲۵۹ سال ۱۹۳۹ء جہاز پر چڑھنے کا خیال ہے۔چلتے ہوئے ہم ایک خوبصورت چوک میں پہنچے جہاں ایک عالیشان مکان ہے اور اُس کا مالک کوئی انگریز ہے۔مجھے کسی نے آ کر کہا کہ اُس کا مالک اور اُس کی بیوی آپ سے چند منٹ بات کرنا چاہتے ہیں اگر آپ تھوڑی سی تکلیف فرما کر وہاں چلیں تو بہت اچھا میں نے اُس سے ملنا منظور کر لیا اور میں بھی اور میرے ساتھ کی مستورات بھی اُس مکان میں گئیں۔عورتیں جا کر اُس کی بیوی کے پاس بیٹھ گئیں اور باتیں کرنے لگیں اور میں اُس آدمی کی کے ساتھ باتیں کرنے لگا۔مختلف علمی باتیں ہوتی رہیں۔گفتگو کوئی مذہبی نہیں تھی بلکہ علمی تھی۔مثلاً یہ کہ مستشرقین یعنی عربی دان انگریز کون کون سے ہیں؟ نیز بعض تمدنی تحقیقاتوں کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔باتوں باتوں میں اُس نے عبدائمی عرب کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نے فلاں انگریز کوعربی پڑھائی ہے۔میں نے کہا کہ میں عبدائی کو جانتا ہوں وہ بوجہ عرب ہونے کے خراب شده عربی بول لیتے ہیں مگر عربی کے کوئی عالم نہیں ہیں۔اس نے کہا کہ خیر کتاب پڑھانا کیا مشکل ہوتا ہے؟ لغت کی کتابیں دیکھ کر پڑھایا جا سکتا ہے جب وہاں سے چلنے لگے ہیں تو میں اپنے دل میں ڈرا ہوں کہ اُس کی بیوی اب مجھ سے مصافحہ کرے گی اور میں اُسے کہتا ہوں کہ آپ بُرا نہ منائیں ہمارا مذہبی حکم ہے کہ عورتوں سے مصافحہ جائز نہیں۔یہ سُن کر اُس کے چہرہ پر تو تغیر پیدا ہو' امگر اُس نے جواب دیا کہ اگر آپ کے مذہب کا یہ حکم ہے تو پھر بُرا منانے کی کیا بات ہے؟ اور پھر اس خیال سے کہ مجھے یہ خیال نہ ہو کہ اُس نے بُرا منایا ہے اُس نے ہنس کر کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس سفر کو کامیاب کرے۔میں وہاں سے چلا اور مستورات کے ساتھ نیچے آیا ہوں تو بعض کی دوست نیچے کھڑے ہیں جن میں میر محمد اسمعیل صاحب اور درد صاحب بھی ہیں۔میں ان سے بات چیت کرتا اور کہتا ہوں کہ اب ہمیں چلنا چاہئے مگر وہ کہتے ہیں کہ شاید آپ کو خیال نہیں رہا کہ بڑی دیر ہو گئی ہے۔رات کے دس بج چکے ہیں اور اب تو گاڑی جا چکی ہو گی۔پھر وہ مجھے پوچھتے ہیں کہ آپ نے کھانا کھا لیا ؟ میں کہتا ہوں کہ نہیں ابھی کھانا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اہلِ خانہ نے بعض مہمانوں کو دو چار مرتبہ پیغام بھیجا تھا کہ آجاؤ تا کھانا کھا سکیں اس لئے ہمارا خیال تھا کہ آپ بھی کھا چکے ہیں۔میں نے کہا ممکن ہے اس کا خیال ہو کہ وہ آ جائیں تو کھا لیں مگر نہ وہ مہمان آئے اور نہ کھانا کھلایا گیا۔پھر میں کہتا ہوں کہ اب کیا کیا جائے؟ اور وہ کہتے ہیں کہ