خطبات محمود (جلد 20) — Page 227
خطبات محمود ۲۲۷ سال ۱۹۳۹ء نہ رہے گی اور ایسی عورتوں کی گود میں پرورش پانے والی اولا د بھی ایسی مخلص اور دین دار ہوگی کہ جو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر پوری طرح ادا کرے گی۔اِس وقت تک ہماری طرف سے عورتوں میں بیداری پیدا کرنے کی پوری پوری جدو جہد نہیں ہوئی۔ایک طرف تو یورپ نے ان کے اندر ایسی بیداری پیدا کر دی ہے کہ وہ سارا دن ادھر اُدھر پھرتی اور ناچتی ہیں اور رات کو جب مرد تھکا ہوا آتا ہے تو انہیں اس کا علم ہی نہیں ہوتا اور وہ بھی شراب پی کر سو جاتا ہے۔انہوں نے کی عورتوں کو ایسا بیدار کیا ہے کہ ان کی نیند ہی اُڑ چکی ہے اور خود سو گئے ہیں اور دوسری طرف ہم ہیں کہ ان کی بیداری کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔حالانکہ اسلام نے عورتوں کو خاص احکام اور ذمہ داریاں دی ہیں اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کام لیا ہے۔دُنیا اس وقت دوضد وں کی طرف جارہی ہے۔یورپ نے تو ان کو ایسا بیدار کر دیا ہے کہ موت کے قریب پہنچا دیا ہے۔کیونکہ جب نیند نہ آئے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور ہم نے ان کو ایسا سلایا ہے کہ دیکھنے والا سمجھتا ہے شاید وہ مر چکی ہیں۔ہم نے ان کی طاقتوں سے کام لینا بالکل ہی چھوڑ دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خَيْرُ الْأُمُورِ اَوْسَطُهَا ہے اور قرآن کریم میں بھی امت مسلمہ کو امت وسطی سے کہا گیا ہے۔پس ہما را قدم بھی درمیانی رستہ پر ہونا چاہئے۔نہ تو اتنی آزادی دے دیں کہ ہر قسم کی قیود کو چھوڑ دیں اور نہ ایسی پابندیاں عائد کر دیں کہ گردنوں میں طوق واغلال اور پاؤں میں زنجیر وسلاسل ڈال دیں بلکہ چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ قیود اور پابندیوں کا ان کو پابند بناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ آزادی دیں تا مرد اور عورتیں دونوں اپنے اپنے حلقہ میں مفید کام کر سکیں کیونکہ جب تک عورتوں میں بیداری اور دینی جوش نہ ہو ہم خود بھی پورے طور پر بیدار ہو کر کام نہیں کر سکتے۔مرد کا کام گھر سے باہر ہی سہی اور عورت کا گھر میں لیکن جب مردد یکھے کہ گھر میں اس کی بیوی بیمار اور بے ہوش پڑی ہے تو وہ باہر جا کیسے سکتا ؟ ہے مگر جب گھر میں بیوی تندرست اور ہوش میں ہو تو وہ آزادی کے ساتھ باہر جائے گا اور شوق سے ہر کام کرے گا۔اسی طرح اگر مردوں کو یہ معلوم ہو کہ ہماری بیویاں ہوشیار ہیں تو وہ یہ نہیں کی سوچیں گے کہ ہم اگر کوئی کام کر کے گھر گئے تو بیوی لڑے گی بلکہ ہمارے ساتھ شریک ہوگی تو وہ خوش دلی سے کام کریں گے۔صحابہ کی عورتیں اسی رنگ میں دینی امور میں تعاون کرتی تھیں۔