خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 226

خطبات محمود ۲۲۶ سال ۱۹۳۹ء ان کے ہاں ایک دوست تھے جو بہت سست تھے وہاں کے دوستوں نے جاکر ان کی بیوی سے کہا کہ اس دین کے کام میں آپ ہماری مدد کریں اِس دوست نے جب تنخواہ لاکر بیوی کو دی تو کی اُس نے پوچھا کہ آپ چندہ دے آئے ہیں اُس نے جواب دیا کہ نہیں چندہ تو نہیں دیا سیکرٹری ملا نہیں تھا پھر دے دوں گا مگر بیوی نے کہا کہ میں تو ایسے مال کو ہاتھ لگانے کے لئے تیار نہیں ہوں جس میں سے خدا تعالیٰ کا حق ادا نہ کیا گیا ہو۔میں تو نہ اس سے کھانا پکاؤں گی اور نہ کسی اور کی کام میں صرف کروں گی۔مرد نے کہا کہ چندہ میں صبح دے دوں گا اس وقت دیر ہو چکی ہے رکھو مگر بیوی نے کہا کہ پہلے چندہ ادا کر آؤ پھر میں ہاتھ لگاؤں گی اور اگر اس وقت جا کر ادا نہیں کر سکتے تو ابھی اپنے ہی پاس رکھو۔اس پر وہ شخص اُسی وقت گیا اور جا کر سیکرٹری سے کہا کہ پتہ نہیں تم لوگوں نے کیا جادو کر دیا ہے کہ میری بیوی تو روپیہ کو ہاتھ نہیں لگاتی اور کہتی ہے کہ جب تک چندہ ادا نہ ہوئیں اسے خرچ ہی نہیں کروں گی۔اُسی وقت چندہ ادا کیا اور کہا کہ آئندہ تنخواہ کی کے ملنے کے دن ہی مجھ سے چندہ لے لیا کرو تا گھر میں جھگڑا نہ ہو۔تو وہ عورت تھی مگر مرد سے زیادہ ہمت اور جوش رکھتی تھی۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس مرد کے دل میں دینے کی خواہش تو ہومگر چونکہ خرچ بیوی کرتی تھی اس لئے وہ ڈرتا ہو کہ کہیں گھر میں جھگڑا نہ ہوا اور جب اسے معلوم ہو گیا کہ اس کی بیوی کی بھی یہی خواہش ہے تو اُس نے بھی آگے قدم بڑھا لیا ہو۔تو ہماری عورتوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا اخلاص اور جوش موجود ہے کہ اگر ان کو دین کی ضرورت سے آگاہ کر دیا جائے تو ساٹھ فیصدی ان میں سے تعاون کے لئے تیار ہو جائیں گی اور جب ان کو معلوم ہوگا کہ ان کے مرد اس لئے چندے ادا نہیں کر سکتے کہ گھر کے اخراجات زیادہ ہیں تو وہ ان کو کم کر کے مدد کریں گی۔اس کے لئے میں نے ایک تجویز یہ کی ہے کہ میں عورتوں کے نام ایک پٹھی لکھوں گا جو ہر عورت کو بھیجی جائے گی اور اس میں ان کو تحریک کی جائے گی کہ وعدہ کریں کہ وہ کی ہماری مدد کریں گی اور اقتصادی کفایت کر کے اور اپنے خاوندوں کو یاد دلا کر انہیں ذمہ داریوں کی کے ادا کرنے کے قابل بنادیں گی اور جو عورتیں یہ وعدہ کریں وہ اپنے دستخط کر کے بھیج دیں ممکن ہے اس تحریک میں پہلے پہل زیادہ کامیابی نہ ہو لیکن اگر مسلسل جاری رکھا جائے تو عورتوں میں ایسی بیداری پیدا ہو جائے گی اور وہ ایسی ہوشیار ہو جائیں گی کہ پھر یاد دہانی کی بھی ضرورت