خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 139

خطبات محمود ۱۳۹ سال ۱۹۳۹ء یہ آپ کا ہے یا خدا کا؟ ہم نے کہا خدا کا۔وہ کہنے لگے جب خدا کا ہے تو اگر خدا کے بندے نے کچھ روپیہ لے لیا تو تم ہو کون جو اسے بد دیانت اور خائن قرار دو۔ہم نے اس پر انہیں بہتیرا سمجھایا اور دلیلیں دیں کہ آپ کی یہ بات درست نہیں مگر وہ یہی کہتے چلے گئے کہ مال بھی خدا کا اور بندہ بھی خدا کا میری سمجھ میں تو اور کوئی بات آتی ہی نہیں۔ہم نے کہا اس کا تو یہ مطلب ہے کہ دینی خزانہ میں سے جو روپیہ کسی کے ہاتھ آئے وہ اُٹھا کر چلتا بنے۔مثلاً صدرانجمن احمد یہ میں مال آتا ہے تو محاسب صاحب سیف اُٹھا کر گھر لے جائیں اور کہیں خدا کا مال اور خدا کا بندہ۔جب مال خدا کا ہے تو میرا اسے اپنے نفس پر خرچ کرنا کہاں گناہ ہوا؟ اور جب ہم انہیں پکڑیں تو وہ کہیں اچھا بتاؤ تم نے خدا کی خاطر مال دیا تھا یا نہیں ؟ اور جب ہم کہیں کہ ہاں دیا تھا تو وہ کہیں کہ بس پھر میں بھی اُس کا بندہ ہوں اور خدا کا بندہ خدا کا مال لے جا رہا ہے۔وہ کہنے لگے اگر کوئی لے جاتا ہے تو لے جائے ہمیں اس میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ہم نے انہیں بہت کی ہی سمجھایا مگر یہ مسئلہ کچھ اس طرح اُن کے دماغ میں مرکوز تھا کہ آخر تک ہماری بات اُن کی سمجھ میں نہ آئی کیونکہ وہ ایسے معاملات میں سزا کے قائل ہی نہ تھے۔اس واقعہ سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ایسے معاملات میں ہماری ذہنیتیں کس قسم کی ہو رہی ہیں؟ حالانکہ حق یہ ہے کہ سزا ذ ہن کو تیز کرتی ہے اور جس طرح دُنیوی انتظامات میں سزا دینا ضروری ہے اور اس سے قوم میں ایسا احساسی پیدا ہو جاتا ہے کہ لوگ غلطی سے حتی الوسع بیچنے لگ جاتے ہیں اور ذہن تیز ہو جاتے ہیں ہمارے ملک میں عام طور پر یہ خیال کرتے ہیں کہ سزا دینا ایک ظلم ہے اور جن لوگوں سے غلطی ہوتی ہے خصوصاً جبکہ وہ اعزازی کا رکن ہوں وہ اور اُن کے دوست خیال کرتے ہیں کہ ایسے موقع پر صرف اظہار ندامت کافی ہونا چاہئے لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے کاموں میں اپنے دماغوں کو پوری طرح نہیں لڑاتے اور آہستہ آہستہ قوم کے ذہن گند ہوتے چلے جاتے ہیں۔اگر وہ ان کی کاموں میں سزا کو ضروری قرار دیتے تو ضرور احتیاط سے کام کرنے کے عادی ہو جاتے اور ذہن تیز ہوتے جاتے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب کسی سے غلطی ہو اور اُسے سزا دینے کی تجویز ہو تو بڑے بڑے لوگ فوراً اس کی سفارشیں لے کر میرے پاس پہنچ جاتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ۔