خطبات محمود (جلد 20) — Page 118
خطبات محمود ۱۱۸ سال ۱۹۳۹ء کرتے ہیں کہ بالوں کو برش کرتے رہے۔کئی کئی گھنٹے بالوں اور چہرہ کی صفائی میں لگا دیتے ہیں۔میرا مطلب صرف اس صفائی سے ہے جو صحت پر اثر ڈالتی ہے۔یہ کوئی صفائی نہیں کہ داڑھی اور مونچھوں کو مونڈھتے اور بالوں کو لکھی اور برش کرتے رہتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت کی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔یہ صفائی نہیں بلکہ لغویت اور بے ہودگی ہے۔ہاں جہاں گندگی اور غلاظت ہوا سے دور کرنا چاہئے۔اگر اس سنگار کا نام صفائی ہے تو پھر تو لندن کے چند کروڑ پتی ہی صفائی رکھ سکیں گے۔جو یو ڈی کولون پانی میں ڈال کر نہاتے ہیں۔اگر کی ہمارے غریب زمیندار ایسی صفائی رکھنے لگیں تو ہر سال ایک گھماؤں زمین بیچ کر نہانے کا ہی کی انتظام کر سکتے ہیں مگر یہ کوئی صفائی نہیں بلکہ تعیش ہے۔وہ صفائی جو اسلام چاہتا ہے یہ ہے کہ گند نظر نہ آئے اور صحت خراب نہ ہو۔پھر بعض لوگ ایسے صفائی پسند ہوتے ہیں کہ مصافحہ بھی کسی سے نہیں کرتے کہ اس طرح کیڑے لگ جاتے ہیں۔یہ بھی صفائی نہیں بلکہ جنون ہے۔ایسی کی صفائی جو اخلاق کو تباہ کر دے جائز نہیں۔بعض لوگ کسی کے ساتھ برتن میں کھانا نہیں کھاتے یہ کی بھی ان کے نزدیک صفائی ہے مگر ایسی صفائی سے اسلام منع کرتا ہے۔جو صفائی اُخوت اور محبت میں روک ہو وہ بے دینی ہے۔پس ہر کام کے وقت اُس کی خوبی اور بُرائی کا موازنہ کر کے دیکھنا چاہئے اور مصافحہ کرنے سے اگر فرض کرو کوئی بیمار بھی ہو جائے یا سال میں آٹھ دس آدمی اس کی طرح مر بھی جائیں تو اس محبت اور پیار کے مقابلہ میں جو اس سے پیدا ہوتا ہے اور ان دوستیوں کی کے مقابلہ میں جو اس سے قائم ہوتی ہیں اس کی حقیقت ہی کیا ہے؟ اگر محبت کے ذریعہ لاکھوں آدمی بچیں اور آٹھ دس مر بھی جائیں تو کیا ہے؟ دیکھنا تو یہ چاہئے کہ نقصان زیادہ ہے یا فائدہ؟ اور جو چیز زیادہ ہو اُس کا خیال رکھنا چاہئے۔کیونکہ ہر بڑی چیز کے لئے چھوٹی فخر بانی ہوتی۔ہے۔پس ایسی صفائی جس سے تعیش اور وقت کا ضیاع ہو یا جو محبت میں روک ہوا سے مٹانا چاہئے۔ہندوؤں میں یہ صفائی ہوتی ہے کہ بیوی ایک پتہ لے کر الگ بیٹھ جاتی ہے اور خاوند الگ اور برہمن ہر ایک کی طرف کتے کی طرح روٹی پھینکتا جاتا ہے۔مجھے بھی ایک دفعہ ایک ایسی دعوت کھانے کا اتفاق ہوا جو آریہ پر تی ندھی سبھا کے مرکز میں تھی۔سب کے آگے علیحدہ علیحدہ پتے اور ان پر کچوریاں وغیرہ رکھ دی گئیں۔یہاں تک تو خیر تھی لیکن اس کے بعد کی ذلت کو کوئی مسلمان۔