خطبات محمود (جلد 20) — Page 110
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء بھی شامل ہو گئے اور چونکہ چودہری صاحب نے ملامت کی کہ آپ لوگ خود کیوں اسباب نہیں اُٹھاتے ؟ بعض ساتھیوں نے اسے بُرا منایا اور رنجش پیدا ہوئی۔جن صاحب کو یہ امرسب سے زیادہ بُرا لگا وہ ہماری جماعت کے تازہ باغیوں کے سردار صاحب تھے لیکن یورپ کے لوگ اس بات میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔وہاں بھی ایسے لوگ ہیں جو دوسروں سے کام لیتے ہیں کہ مگر سفر وغیرہ کے مواقع پر اسباب اُٹھانے میں وہ بھی تامل نہیں کرتے۔غرض کام نہ کرنے کی کی عادت انسان کو بہت خراب کرتی ہے۔کسی ملک میں جو مثالیں بنی ہوئی ہوتی ہیں وہ دراصل اس کی ملک کی حالت پر دلالت کرتی ہیں اور قوم کا کیریکٹر ان میں بیان ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں یہ مشہور ہے کہ کوئی سپاہی سفر پر جارہا تھا کہ اُسے آوازیں آنی شروع ہوئیں کہ میاں سپاہی ! ذرا ادھر آنا اور جلدی آنا بڑا ضروری کام ہے۔وہ ایک ضروری کام سے جا رہا تھا اور پچاس ساٹھ گز کے فاصلہ سے اُسے یہ آواز آ رہی تھی مگر خیر وہ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ دو آدمی لیٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک اسے کہنے لگا کہ میاں سپاہی یہ میری چھاتی پر پیر پڑا ہے اُسے اُٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو۔یہ سُن کر اُسے بہت غصہ آیا اور اُس نے اسے گالیاں دیں اور کہا کہ تُو بڑا نالائق ہے میں ضروری سفر پر جا رہا تھا تم نے مجھے پچاس ساٹھ گز کے فاصلہ سے بلا یا۔تمہاری چھاتی پر بیر تھا جسے تم خود اٹھا کر کھا سکتے تھے تم کوئی لولے لنگڑے تو نہ تھے کہ مجھے اتنی دور سے بُلا یا۔اس پر دوسرے شخص نے کہا کہ میاں سپاہی جانے دو کیوں اتنا غصہ کرتے ہو۔یہ شخص تو ہے ہی ایسا۔یہ کسی کام کا نہیں اور اس قابل نہیں کہ اس کی اصلاح ہو سکے۔اس کی سستی کی تو یہ حالت ہے کہ ساری رات گتا میرا منہ چاہتا رہا اور اِس سے اتنا نہ ہو سکا کہ اسے ہشت ہی کر دے۔اس مثال میں ہمارے ملک کی بے عملی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔اس میں شک نہیں کہ ہر ملک میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں مگر یہاں بہت زیادہ ہیں یہاں جو کام کرنے والے ہیں وہ بھی سست ہیں۔میں نے کئی دفعہ سُنایا ہے کہ یہاں جو مزدور اینٹیں اُٹھاتے ہیں وہ اِس طرح کی ہاتھ لگاتے ہیں کہ گویا وہ انڈے ہیں آہستہ آہستہ اُٹھاتے ہیں اور پھر اُٹھاتے اور رکھتے وقت کمر سیدھی کرتے ہیں۔پھر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کہتے ہیں کہ لاؤ ذرا حقہ کے تو دوگش لگالیں لیکن ولائت میں میں نے دیکھا ہے کہ حالت ہی اور ہے۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو میں نے