خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 61

41 (۸) (فرمودہ ۳۰۔جون ۱۹۱۹ء بمقام مسجد اقصی قادیان) يا يَتْهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِى إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي عید کا دن تمام اقوام میں مشترک ہوتا ہے۔اس لحاظ سے نہیں کہ سب قومیں عید مناتی ہیں۔اس لحاظ سے بھی نہیں کہ عید کی وہ عبادتیں جو ہم بجالاتے ہیں دوسرے بھی وہی عبادتیں کرتے ہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمام اقوام میں خوشی اور عید کا دن منایا جاتا ہے اور عجیب عجیب رنگ میں منایا جاتا ہے۔پس ہر ایک قوم میں عید کا نشان ملتا ہے خواہ وہ ہند کے باشندے ہوں، خواہ تہذیب کے پرانے مرکز عراق و ایران مصر و شام کے باشندے ہوں، خواہ امریکہ و آسٹریلیا اور افریقہ کے قدیم باشندے ہوں جن کے متمدن قوموں سے کوئی واسطہ نہیں رہا ان سب میں کسی نہ کسی رنگ میں عید منائی جاتی ہے۔ہاں مختلف لوگوں نے اس کے مختلف نام رکھے ہوئے ہیں۔بے شک ان میں عید نام نہیں۔وہ اس کا نام میلہ رکھتے ہیں یا فیسٹول (Festival) یا کوئی اور نام رکھتے ہیں لیکن ایک دن چھٹی منانے کے لئے وقف ضرور کرتے ہیں جس میں جمع ہو کر وہ خوشی مناتے اور ایسی حرکات کرتے ہیں جن سے خوشی کا اظہار ہوتا ہو۔اور یہ عیدوں کا سلسلہ ایسا ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لئے فطرت نے لوگوں کو مجبور کیا ہے۔پس ہر ایک قوم میں عید کے نشان پائے جانے سے ثابت ہوا کہ یہ ایک طبعی امر ہے۔اگر یہ نہ ہو تا تو سب میں یہ بات نہیں پائی جا سکتی تھی۔افغانستان میں ہندوستان کے قرب کے باعث اسی قسم کی تقریب ہو سکتی تھی لیکن امریکہ جس کا ہندوستان سے کوئی تعلق ہی نہ تھا اس کے باشندوں میں نہیں پائی جاسکتی تھی۔پس سب اقوام میں تہواروں کا رواج ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ کسی بڑے بزرگ سے عید کا طریق سیکھا ہے۔یا یہ فطرت کے تقاضا کے ماتحت ہے۔بہر حال تہواروں کے مشترک طور پر تمام اقوام میں پائے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات دو حال سے خالی نہیں یا تو کسی ابتدائی بزرگ سے سب نے سیکھا۔یا یہ ایک S