خطبات محمود (جلد 1) — Page 502
۵۰۲ (۴۸) فرموده ۲۹۔مارچ ۱۹۶۰ء بمقام ربوه) احادیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم میں نا اہل و عید کے موقع پر عید گاہ میں آتے اور جاتے ہوئے اور پھر عید گاہ میں تشریف رکھتے وقت بھی بڑی کثرت کے ساتھ یہ تکبیر پڑھا کرتے تھے کہ اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ اَكْبَرَ - لَا إِلَهَ إِلَّا الله والله اَكْبَرُ الله اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الحمد - له رسول کریم میں لیل و لیلی کی یہ سنت بتاتی ہے کہ مومنوں کی حقیقی عید اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور اس کی عظمت کے بیان کرنے میں ہی ہے۔پس اگر ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عظمت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، اس کے نام کو پھیلا دیں ، اس کی بڑائی کو ثابت کر دیں اور اپنی تمام کوششیں اور مساعی اس غرض کیلئے وقف کر دیں کہ خدا تعالیٰ کا نام بلند ہو تو یقینا ہماری عید حقیقی عید کہلا سکتی ہے۔لیکن اگر ہمیں اپنے فرائض کا احساس نہ ہو اور خدا تعالیٰ کی توحید کی اشاعت اور اس کی عظمت کے قیام کے لئے اسلام جن قربانیوں کا ہم سے تقاضا کرتا ہے ان قربانیوں کے میدان میں ہمارا قدم سُست ہو تو پھر ہماری عید صحیح معنوں میں عید نہیں کہلا سکتی۔پس آج میں اپنی جماعت کے تمام دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اس عید کو حقیقی رنگ میں منانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس ظاہری عید کو اس عظیم الشان روحانی کے حصول کا ایک ذریعہ بنانا چاہئے جس میں ساری دنیا خدا تعالیٰ کی بڑائی کی قائل عید جائے۔ہو اگر دنیا میں خدا تعالیٰ کی بڑائی قائم نہ ہو تو ہماری عید کوئی عید نہیں لیکن اگر اس کی بڑائی ہو جائے اور دنیا محمد رسول اللہ سمیت تمام تعلیم کی غلامی میں داخل ہو جائے تو اس میں ہماری حقیقی عید ہے کیونکہ سچا غلام تبھی خوش ہوتا ہے جب اس کا آقا خوش ہو۔غرض عید ہمیں تبلیغ اسلام کی وسعت اور خدا تعالیٰ کی بڑائی دنیا میں قائم کرنے کی طرف توجہ دلاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی بڑائی اسی صورت میں قائم ہو سکتی ہے جب جماعت کے تمام افراد کیا چھوٹے اور کیا بڑے اور کیا مرد اور کیا عورتیں تبلیغ پر زور دیں اور محمد رسول الله ملی دلیل مل کے جھنڈے کے