خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 488

۳۸۸ (۴۵) (فرموده ۲۔مئی ۱۹۵۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ ) مجھے آج پھر معذرت کرنی پڑتی ہے کہ میں کوئی لمبا خطبہ نہیں پڑھ سکتا بلکہ لمبا خطبہ تو الگ رہا میں چھوٹا خطبہ پڑھنے سے بھی معذور ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کے ایام میں میرے منہ میں تکلیف ہو گئی اور مسوڑھوں میں ایک جگہ پیپ پڑ گئی جس کو ڈاکٹر عبد الحق صاحب نے لاہور سے آکر نکالا اور اس کی وجہ سے قریباً سارا رمضان دانت استعمال نہیں ہو سکے۔اگر خالی مسوڑھے ہوں اور دانت نہ ہوں تب بھی ایک حد تک غذا چبائی جا سکتی ہے لیکن اگر کچھ دانت ہوں اور دانت دانت پر لگ رہے ہوں تو جہاں دانت نہیں ہوتے وہاں خلا بن جاتا ہے جس کی وجہ سے غذا اچھی طرح چبائی نہیں جا سکتی۔حضرت اماں جان ۸۶۰۲ سال کی عمر میں بھی مسوڑھوں سے غذا چبا لیا کرتی تھیں حالانکہ ان کے سارے دانت گر گئے تھے۔پس ایک تو مسوڑھوں کی تکلیف کی وجہ سے غذا بغیر چہائے معدہ میں جاتی رہی جس کی وجہ سے اسہال کی تکلیف ہو گئی اور اس سے طبیعت میں ضعف پیدا ہوا۔اس کے علاوہ طبیعت کی کمزوری کی ایک اور وجہ بھی ہوئی اور وہ یہ ہے کہ ۱۹۵۵ء میں رمضان کے قریب ہی مجھ پر فالج کا حملہ ہوا تھا ہم کراچی میں تھے رمضان شروع ہوا جس کی وجہ سے اس سال تلاوتِ قرآن نہ ہو سکی۔پھر ۱۹۵۶ء آیا تو اس سال بھی رمضان کے مہینہ میں فالج کا اثر ابھی باقی تھا جس کی وجہ سے تلاوت نہ ہو سکی۔اس دفعہ میں نے تلاوت پر زور دیا تاکہ پچھلی کسر نکل سکے اس کی وجہ سے بھی ضعف ہوا۔فالج کا اثر جو کچھ کچھ باقی ہے وہ آنکھوں پر محسوس ہوتا ہے چنانچہ آنکھیں بڑی جلدی کام کرنے سے تھک جاتی ہیں۔سامنے آدمی بیٹھا ہوا ہوتا ہے مگر وہ ذرا ادھر اُدھر ہو جائے تو مجھے پتہ نہیں لگتا کہ وہ کہاں گیا ہے اور میں اسے پہچان نہیں سکتا۔پھر اس کا اثر جلد ہی حافظہ پر بھی پڑتا ہے اور میں تھوڑی ہی دیر میں بھول جاتا ہوں کہ مجھے کون ملا تھا۔بہر حال تلاوت کی وجہ سے بیماری کی تکلیف اور بھی بڑھ گئی اور حافظہ کی کمزوری جس میں کافی کمی آگئی تھی۔پھر زیادہ ہو گئی۔پچھلے سال ۱۹۵۶ء میں مجھے لمبا آرام مل گیا تھا اس کی وجہ سے کمزوری