خطبات محمود (جلد 1) — Page 483
۴۸۳ سکتا ہے مگر وہ لوگ نہ اسلام کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ قوم اور ملک کے لئے ان کا وجود مفید ہو سکتا ہے۔مذہب اور قوم اور ملک کے لئے وہی لوگ مفید ہوتے ہیں جو ہر قسم کی قربانیوں پر آمادہ رہنے والے ہوں۔پس اس موقع پر ہمیں کم سے کم یہ عزم کر لینا چاہئے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرنی چاہئے کہ عید الفطر میں جو سبق مخفی ہے وہ ہمیں حاصل ہو اور ہماری دولتیں ہمارے لئے نہ ہوں بلکہ قوم اور ملک کے لئے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان کے پچیس فیصدی مسلمان ہی یہ عہد کر لیں تو حقیقی عید انہیں میسر آ سکتی ہے۔پھر نہ اسرائیل کا جھگڑا رہ سکتا ہے اور نہ کوئی اور مشکل انہیں پریشان کر سکتی ہیں مگر مصیبت یہی ہے کہ مسلمان صرف نعرے لگانا جانتے ہیں کام کرنا نہیں جانتے۔دو تین سال ہوئے امریکہ نے شکاگو یونیورسٹی کے چانسلر کو ایشیا میں یہ پتہ لگانے کے لئے بھجوایا کہ ان ممالک میں کمیونزم کے پھیلنے کے کس قدر امکانات ہیں۔وہ مجھے بھی ملنے کے لئے آیا۔میں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ تمہیں کیا پتہ لگا؟ کہنے لگا مجھے اطمینان ہو گیا ہے کہ پاکستان میں کمیونزم نہیں پھیل سکتا۔میں نے کہا کیوں؟ کہنے لگا اس لئے کہ اسلام کمیونزم کے خلاف ہے میں نے کہا یہ تو درست ہے مگر تم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ کسی بڑے مولوی کو اگر ایک ہزار روپیہ بھی دے دیا جائے اور وہ آگے دوسروں میں دس دس روپے بھی تقسیم کر دے اور ان سے کہا جائے کہ وہ کمیونزم کی تائید میں تقریریں کریں تو وہ اس امر پر بھی تقریریں کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ سارا قرآن کمیونزم سے بھرا ہوا ہے۔اور پھر وہ یہ نعرے بھی لگوادیں گے کہ اسلام زندہ باد۔کمیونزم زندہ رکھنے لگا یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔میں تو بڑا خوش تھا کہ یہاں کمیونزم کسی صورت میں بھی نہیں پھیل سکتا۔میں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں کا تمام مدار صرف نعروں پر ہے عملی لحاظ سے وہ اپنے اندر کوئی تغیر پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور جب تک سلو گنز پر کوئی قوم انحصار رکھتی ہے وہ جیت نہیں سکتی۔وہ باہر اسلام زندہ باد کے نعرے لگا ئیں گے اور گھر میں آکر شراب پینے اور کنچنیاں نچوانے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھیں گے۔۱۹۵۳ء میں جب فسادات ہوئے کل تو ایک احمدی جو پچھتر سال کی عمر کا تھا لوگوں نے اس پر حملہ کر دیا اور کہا کہ تو بہ کرو اس نے کہا اچھا میری تو بہ اور لوگ خوش خوش واپس چلے گئے۔وہاں کے ملاں نے یہ بات سنی تو اس نے لوگوں سے کہا اس نے تمہیں دھوکا دیا ہے۔تم اس سے جا کر کہو کہ وہ ہمارے پیچھے آکر نماز پڑھے۔چنانچہ وہ پھر اس کے پاس آئے اور کہنے باد۔