خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 482

۴۸۲ کرنے کے لئے تیار نہیں۔پس ہمیں اس عید سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور کم سے کم اور اگر اور کچھ نہیں تو ہمیں اپنے دل میں یہ عہد کر لینا چاہئے جو کچھ خدا ہمیں دے گا ہم اسے اپنے نفسوں پر کم خرچ کریں گے اور اپنے ملک اور قوم پر اور غرباء پر زیادہ خرچ کریں گے۔میں حضرت عبد الرحمن بن عوف کا واقعہ سنا رہا تھا کہ اڑھائی کروڑ دینار ان کے گھر سے نکلے مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے گھر کا روزانہ خرچ صرف اڑھائی درہم تھا۔للہ اب کجا اڑھائی کروڑ دینار کی جائیداد اور کجا اڑھائی درہم خرچ۔آج کل کے حساب سے درہم ساڑھے تین آنے کا ہے لیکن اُس زمانہ میں چونکہ سکہ کی قیمت زیادہ تھی اس لئے ایک درہم کے لحاظ سے ان کا ماہوار خرچ اگر دس روپیہ بھی قرار دو تب بھی پچیس روپے خرچ ہوا۔گویا ۲۵ کروڑ کی جائیداد ان کے پاس تھی اور پچیس روپیہ مہینہ ان کے سارے گھر کا خرچ تھا مگر اب یہ حال ہے کہ ۲۵ روپیہ آمدن ہوتی ہے تو ساٹھ روپیہ خرچ ہوتا ہے اور دوسرے تیسرے مہینے شور مچ جاتا ہے کہ اتنا قرض ہو گیا ہے۔ابھی پچھلے دنوں مجھے ایک عیسائی کے متعلق اطلاع ملی کہ وہ کہتا ہے مجھے چار سو روپیہ عیسائی دیتے ہیں اگر آپ مجھے چار سو روپیہ دینے کے لئے تیار ہوں تو میں ابھی مسلمان ہونے کے لئے تیار ہوں۔میں نے کہا ایسے لوگ تو ہمیں لاکھوں مل سکتے ہیں بلکہ چار سو کیا پونے چار چار سو پر بھی لاکھوں لوگ اکٹھے کئے جاسکتے ہیں۔ہمیں تو ان لوگوں کی ضرورت ہے جو محض خدا کی خاطر اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ورنہ اگر ہم روپیہ دے کر لوگوں کو لانا چاہیں تو لاکھوں لوگ آنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔حافظ روشن علی صاحب مرحرم ۱۳ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں امر تسر گیا بازار سے گذر رہا تھا کہ ایک ملا ٹائپ آدمی ہاتھ میں میں پچیس روٹیاں اٹھائے ہوئے میرے پاس سے گذرا اور اس نے مجھ سے مصافحہ کیا۔میں نے کہا میں آپ کو نہیں جانتا کہنے لگا آپ نہیں جانتے لیکن میں جانتا ہوں۔میں مولوی ثناء اللہ صاحب کی مسجد کا امام ہوں۔میں نے کہا پھر آپ نے مجھ سے مصافحہ کیوں کیا ہے؟ کہنے لگا اس لئے کہ میں دل سے احمدی ہوں۔میں نے کہا تمہیں وہاں کوئی دقت تو پیش نہیں آتی۔کہنے لگا کوئی دقت نہیں میں ہی ان کو نماز پڑھاتا ہوں اور وہ میرے لئے روٹی کا انتظام کر دیتے ہیں۔اگر میں اپنے آپ کو ظاہر کر دوں تو پھر یہ روٹیاں آپ کو دینی پڑیں گی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہی بہتر ہے میں ادھر مولوی ثناء اللہ صاحب کا اور ان کے ساتھیوں کو نمازیں پڑھا دیتا ہوں اور ادھر روٹیاں بھی ان سے لے لیتا ہوں۔غرض روپیہ دے کر تو کئی لوگوں کو اکٹھا کیا جا