خطبات محمود (جلد 1) — Page 469
۴۶۹ دوسرے ممالک کے اسمبیسیڈر وہاں جاتے ہیں اور چونکہ بعض ممالک بہت مالدار ہوتے ہیں اس لئے باہر کی ایمبیسیوں کا مجموعی خرچ دس پندرہ لاکھ پونڈ سالانہ ہو جاتا ہے اور روس والے اس ذریعہ سے کروڑ ڈیڑھ کروڑ پونڈ سالانہ کما لیتے ہیں اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ ان کی حالت درست نہیں۔باہر والوں کو تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے مزدوروں کو مثلاً پانچ چھ سو روبل دیتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں امریکن مزدور کو سوا سو ڈالر ملتے ہیں اور سوا سو ڈالر کے بدلہ میں پانچ سو روبل ملتا ہے۔گویا ہمارے مزدور کو امریکن مزدور سے کئی گنے زیادہ مزدوری ملتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں اشیاء ارزاں ہیں۔لیکن اگر اس ملک والے ڈالر لینا چاہتے ہیں تو انہیں اس کی قیمت بہت بڑھا کر دکھائی جاتی ہے۔ان کے پانچ سو روبل در اصل چودہ پندرہ ڈالر کے برابر ہوتے ہیں گویا پاکستان والی مزدوری آگئی حالانکہ یورپین ممالک میں مزدور کی مزدوری اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔تو بظاہر روس والوں نے کمیونزم تو بنا دیا۔یا کئی اور ممالک ہیں جنہوں نے اس قسم کی سکیمیں تیار کیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔جرمن سکہ کی قیمت بھی کسی زمانہ میں اتنی گر گئی تھی کہ ایک پونڈ کی قیمت کئی لاکھ مارک ہو گئی تھی۔شروع شروع میں جب جرمن سکہ کی قیمت دو سو تین سو چار سو گنا گر گئی تو لوگوں نے خیال کیا کہ اس وقت جرمن سنگہ خرید لیا جائے تو کچھ عرصہ کے بعد قیمت بڑھ جانے کی وجہ سے کافی منافع ہو گا۔ان دنوں مولوی عبد المغنی خان صاحب کہ ناظر بیت المال تھے انہوں نے سمجھا کہ میں نے روپیہ کمانے کا فن نکال لیا ہے۔ہم جرمن سکہ خرید لیتے ہیں کچھ عرصہ کے بعد جب اس کی قیمت بڑھ جائے گی تو ہمیں کئی گنا روپیہ منافع میں ملے گا۔انہوں نے مجھے لکھا کہ ہم پچاس ساٹھ ہزار روپیہ وہاں بھیج دیں تو ہمیں ایک کروڑ روپیہ مل جائے گا۔میں نے کہا سلسلہ کا روپیہ تو میں دیتا نہیں ہاں میں اپنا کچھ روپیہ دے دیتا ہوں۔میں نے اپنے ایک عزیز کو کہا کہ تم جر مبنی جاکر تعلیم حاصل کر آؤ کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہاں تھوڑے سے روپیہ میں تعلیم حاصل ہو جائے گی۔چنانچہ میں نے دو ہزار روپیہ جرمنی کے ایک بنک میں بھیج دیا جس کے بدلے میں جرمن سکہ وہاں میرے حساب میں قریباً دو تین لاکھ جمع ہو گیا۔میں نے اپنے اس عزیز کو جرمنی روانہ کر دیا مگر رستہ میں اسے حالات کچھ اس قسم کے پیش آگئے کہ وہ بجائے جرمنی جانے کے انگلستان چلا گیا۔جماعت کے اور دوستوں نے بھی مارک خریدے اور اس طرح اڑھائی تین ہزار روپے کے مارک خرید لئے گئے۔اس کے بعد مارک کی قیمت روز بروز گرتی گئی جب پانچ