خطبات محمود (جلد 1) — Page 463
d تھے وہ ہمارے عزیز ہیں ، میں انہیں دیکھنے کے لئے گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ جیسا بھی ہو سکول بنوا دیں میں محکمہ سے آپ منظور کروالوں گا لیکن اب سکول کی طرف سے مطالبات بڑھ رہے ہیں کہ یہ بنوا دو ایسا بنوا دو۔ہمیں سب سے زیادہ نوٹس سکول ہی دیا کرتا ہے کہ اگر فلاں مدد نہ دی جائے تو سکول کی ایڈ (AID) بند ہو جائے گی اور حالت یہ ہے کہ ایڈ پانچ ہزار روپیہ سالانہ ہے تو خرچ ایک لاکھ روپیہ سالانہ ہے۔اگر سارے محکمے ایسا کریں تو پھر بنے گا کیا؟ آخر وہ یہ گر بھی بتائیں کہ کام کیسے ہو۔بعض لوگ میرے پاس مشورہ کے لئے آتے ہیں کہ مخالفت بہت زیادہ ہے میں موجودہ گاؤں میں یا شہر میں نہیں رہ سکتا تجارت بند ہو گئی ہے لوگ باہر جانے کے لئے مشورہ دیتے ہیں میں باہر نہیں جا سکتا اور تجارت کے سوا اور کوئی کام بھی نہیں کر سکتا اب حضور سے مشورہ لینے آیا ہوں کہ اب کیا کروں۔میں کہتا ہوں کہ رستے تو تم نے سب بند کر دیئے میں مشورہ کیا دوں تجارت چلتی نہیں ، تجارت کے سوا آپ کوئی کام نہیں کرنا چاہتے اور اپنے شہر میں آپ کام کر نہیں سکتے اور باہر بھی آپ جانا نہیں چاہتے تو میں مشورہ کیا دوں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کسے میں ایک جگہ بند ہوں ، سوراخ کوئی ہے نہیں ، اوپر سیمنٹ لگا ہوا ہے ، رستے سب بند ہیں آپ بتائیے کہ اب میں کس طرح نکلوں۔آخر محکمے والے بتا ئیں تو سہی کہ میں کیا کروں۔یہی کہ سکول بند کر دیا جائے یا وہ مجھے کوئی اور رستہ بتا ئیں۔علی گڑھ والے جاتے ہیں اور تین چار لاکھ روپیہ چندہ اکٹھا کر کے لے آتے ہیں جس سے کالج وغیرہ چلتا 1۔03۔رہتا ہے لیکن تم لوگ یہ کام بھی نہیں کرتے اخراجات تو مانگتے ہو۔کوئی ترکیب بھی تو بتاؤ کہ اخراجات کہاں سے لائے جائیں۔ادھر کالج والے کہتے ہیں کہ فلاں خرچ ضرور کرنا ہو گا ورنہ یونیورسٹی کالج بند کر دے گی۔آخر وہ خرچ ضروری ہے تو آمد پیدا کرنے کے متعلق بھی تو مشورہ دینا چاہئے۔وہ خود کچھ نہیں کرنا چاہتے صرف ہم سے کہلوانا چاہتے ہیں کہ کام بند کر دو۔مشہور ہے کہ قیصر جرمنی کا ایک گھوڑا تھا جو اسے بہت پیارا تھا۔ایک دن گھوڑا بیمار ہو گیا ڈاکٹر اس کا علاج کرتے رہے لیکن آرام نہ آیا۔ایک عرصہ کے بعد قیصر نے ڈاکٹروں کے چہروں سے معلوم کیا کہ وہ گھوڑے کی صحت سے مایوس ہیں اس نے اپنے مصاحبوں سے کہا تم جتنا خرچ ہو سکتا ہے کرد لیکن گھوڑا اچھا ہو جائے اگر میرا گھوڑا مر گیا تو مجھے سب سے پہلے جو خبر دے گا میں اسے پھانسی دے دوں گا اور اگر کسی نے خبر نہ دی تو سب کو پھانسی دے دوں گا۔ڈاکٹروں نے بہتیرا زور لگایا لیکن گھوڑا مر گیا۔بادشاہ کا ایک چہیتا نو کر تھا مصاحبوں نے اس سے کہا کہ تم بادشاہ