خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 455

۴۵۵ گزر رہے ہیں۔اگر ناظر صاحب بیت المال کی بات ٹھیک ہے تو چندہ میں تھوڑا سا فرق ہو گا اور اگر محاسب صاحب کی بات صحیح ہے تو پھر بہت بڑا فرق ہے۔بہر حال حالات ایسے نہ ہو گئے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اب بیدار ہو جانا چاہئے۔میں تمہیں کتنے عرصہ سے کہہ رہا ہوں کہ بیدار ہو جاؤ بیدار ہو جاؤ لیکن تم نے میری بات کو کوئی وقعت نہیں دی۔جب دشمن بولتا ہے تو تم تقریریں کرنے لگ جاتے ہو کہ ہم یوں کریں گے یوں کریں گے لیکن جب خلیفہ کہتا ہے کہ تم یوں کرو تو اس کی بات تم یوں سمجھتے ہو جیسے ہوا کا ایک جھونکا آیا اور چلا گیا۔لیکن یہ تو سمجھو کہ میں نے مالی دقتوں کے متعلق تمہیں کتنی دفعہ توجہ دلائی ہے میں تمہیں اس لئے توجہ نہیں ولا تا کہ میں نے کچھ کھانا ہوتا ہے۔میں مارچ ۱۹۱۴ء میں خلیفہ ہوا ہوں اور اس وقت میری خلافت پر ۳۸ سال گذر چکے ہیں تم ہی بتاؤ میں نے اتنے عرصہ میں خزانہ سے کیا لیا ہے آخر میں تمہیں توجہ دلاتا ہوں، ڈراتا ہوں اور ہوشیار کرتا ہوں تو اس لئے نہیں کہ اس میں میرا کچھ فائدہ ہے میں تمہیں اس لئے توجہ نہیں ولا تاکہ سلسلہ کے مال میں میرا کوئی حصہ مقرر ہے۔یہ نہیں کہ ۸ لاکھ آمد ہوگی تو ایک لاکھ میرا ہو گا، بارہ لاکھ آمد ہوگی تو ڈیڑھ لاکھ میرا ہو گا مجھے سلسلہ کے مال سے کوئی حصہ نہیں ملتا جس کی وجہ سے میں تمہیں ڈراتا ہوں۔میں ۲۵ سال کی عمر کا تھا جب خلیفہ ہوا اب ۶۳ سال کا ہوں اب تک میں نے خزانہ لیا ہے ؟ جس کی وجہ سے کسی کو شبہ ہو کہ میں نے یہ بات کسی غرض کی وجہ سے کسی ہے میں نے جماعت کو کچھ دیا ہے لیا نہیں۔پچھلے دنوں کسی شخص نے میرے متعلق جھوٹ بولا کہ میں جماعت کا چندہ کھا گیا ہوں تو میں نے اپنے چندے کا حساب نکلوایا تو معلوم ہوا کہ میں صرف تحریک جدید کو پچھلے ۱۸ سالوں میں دولاکھ سے زائد روپیہ دے چکا ہوں۔پس میں جب تمہاری مالی حالت کی طرف توجہ دلاتا ہوں تو اپنے فائدہ کے لئے نہیں صرف تمہارے فائدہ کے لئے کچھ کہتا ہوں۔تمہیں میں نے کم کہا ہے گو کہا ہے لیکن صدر انجمن کے کاغذات نکال کر دیکھ لو۔کوئی تاریخ دان انہیں پڑھے گا تو وہ حیران ہو گا درجنوں صفحات ایسے نکلیں گے جن میں میں نے صدر انجمن احمدیہ کو توجہ دلائی ہوگی کہ اپنے آپ کو بچاؤ ورنہ تمہارا کوئی ٹھکانا نہیں ہو گا لیکن انہوں نے میری بات نہ سنی۔ہمیشہ ان کی طرف سے یہی لکھا آتا ہے کہ فلاں مد میں زیادتی کر دی جائے۔جب نظم میں خرابی ہوگی تو ہمارا کسی جگہ بھی ٹھکانہ نہیں ہو گا۔میں کارکنوں سے کہتا ہوں کہ بد نظمی کا حال دیکھ لو۔تم کہتے ہو کہ فلاں ناظر میں خرابی ہے اور ناظر کہتے ہیں کہ تم ایسے ہو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ خرابی تم