خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 429

۴۲۹ دریائے راوی پر گیا وہاں نہا رہا تھا کہ مگر مچھ نے اس کی ٹانگ پکڑ لی لہ اس طرح وہ بھی ختم ہو گیا۔وہ مجسٹریٹ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس قدر تنگ کیا کرتا تھا کہ مقدمہ کے دوران میں سارا وقت آپ کو کھڑا رکھتا اگر پانی کی ضرورت محسوس ہوتی تو پینے کی اجازت نہ دیتا۔للہ ایک دفعہ خواجہ صاحب نے پانی پینے کی اجازت بھی مانگی مگر اس نے اجازت نہ دی۔بعد میں اس کی یہ حالت ہوئی کہ اس نے خود مجھ سے دعا کیلئے درخواست کی میری عمر چھوٹی تھی کوئی بیس بائیس سال کی ہوگی میں کہیں جانے کے لئے اسٹیشن پر کھڑا تھا کہ وہ میرے پاس آیا اور ایک گھنٹہ میرے پاس کھڑا رہا اور اس نے درخواست کی کہ میرے لئے دعا کریں کہ کسی طرح یہ عذاب مجھ سے دور ہو جائے۔دوسرے مجسٹریٹ نے بظاہر آپ کو مقدمہ میں کوئی تکلیف نہیں دی تھی لیکن آخر میں آپ کو جرمانہ کی سزا دے دی۔گاہ وہ بھی ذلیل و خوار ہوا اور ملازمت سے الگ کر دیا گیا۔۱۳ یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے اگر دشمن اس پر کوئی مصیبت لانے کی کوشش بھی کرتا ہے تو وہ عارضی ہوتی ہے۔غرض ایک عید اس شخص کی ہوتی ہے جسے اس کا محبوب یعنی خدا تعالیٰ مل جائے اور یہ وہ حقیقی عید تھی جو صحابہ کو حاصل تھی۔اسی طرح یہ عید خلفائے راشدین کے زمانہ میں اور اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک چلی گئی لیکن پھر ایک ایسا زمانہ آیا کہ خدا تعالیٰ کا ملنا تو الگ رہا مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ خدا تعالیٰ مل ہی نہیں سکتا اور وہ کسی سے کلام نہیں کرتا حالانکہ خدا تعالیٰ اب بھی اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور ان کی ہر کام میں مدد اور نصرت کرتا ہے۔مجھے اپنی ذات کا تجربہ ہے مجھے ایک دفعہ کوئی تکلیف پہنچی۔اس وقت میں نے اپنی دعا میں زور پیدا کرنے کے لئے یہ ارادہ کیا کہ جب تک میری وہ تکلیف دور نہ ہوگی میں زمین پر سویا کروں گا۔ہمارے صوفیا میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔اسی طرح عیسائیوں میں بھی یہ چیز پائی جاتی تھی کہ کس طرح اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر خدا کے رحم کو کھینچا جائے۔بہر حال میں نے ارادہ کیا کہ جب تک میری وہ تکلیف دور نہ ہوگی میں زمین پر سویا کروں گا۔جب پہلے دن میں زمین پر سویا تو میری آنکھ ابھی لگی ہی تھی کہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت انسان کی شکل میں متشکل ہو کر میرے سامنے آگئی۔اس کے ہاتھ میں تازہ ملائم اور نرم نرم سبز چھڑی تھی اور جس طرح کوئی بناوٹی غصہ سے چہرہ کی شکل بناتا ہے ویسی ہی شکل بنا کر اس نے چھڑی اٹھائی اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا محمود ! چار پائی پر سوتا ہے یا نہیں۔مجھے یاد 28