خطبات محمود (جلد 1) — Page 396
کو دوں یا پر اٹھا آپ کو کھلاؤں یا انڈے ابال کر آپ کو دوں یا پڈنگ (Pudding) یا پارج (Porridge) یا اور جو چیزیں آسودہ حال گھروں میں پکتی ہیں، آپ کے سامنے رکھوں ، کیا کوئی ہو عظمند انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ میں ملا لیا اور اس کے ساتھ ان چیزوں میں شریک ہو جائیں گے۔ان چیزوں میں تو وہ شامل ہو گا جسے ان کی قدر ہو گی مگر محمد رسول اللہ میں کہ ہم نے تو اپنی زندگی میں ہی یہ سب چیزیں غیروں کو دے دیں۔جب مکہ فتح ہوا تو کتنا دردناک فقرہ ہے جو آپ نے کہا۔اس فقرہ سے اس قربانی کا پتہ لگتا ہے جو آپ نے اور آپ کے صحابہ نے کی۔مکہ فتح ہوا تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کہاں ٹھہریں گے۔اس کے جواب میں آپ نے فرمایا۔کیا ہمارے رشتہ داروں نے کوئی مکان ہمارے لئے باقی چھوڑا ہے کہ اس میں ٹھہریں۔- انسان جب اپنے وطن میں جاتا ہے تو اس کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ان گھروں میں ٹھہرے جہاں اس نے بچپن گزارا ہے ان مکانوں میں ٹھہرے جن کے آگے کی گلیوں میں وہ سارا دن اپنے ہمجولیوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا ان کمروں میں بیٹھے جہاں اس کے نوجوان دوست اس کے ساتھ بیٹھ کر خوش طبعی کیا کرتے تھے ، ان کمروں کو دیکھے جن میں اس کے ماں باپ ، چا چی یا دوسرے رشتہ دار اس کے سر پر محبت و شفقت کا ہاتھ پھیرا کرتے تھے، پھر تم اس شخص کے متعلق قیاس کرو جس کو اس کے شہر سے نکال دیا گیا ہو اور اس کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا ہو کہ وہ آؤٹ لاء (Outlaw) ہے اور اسے اجازت نہیں کہ وہ آئندہ کبھی اس شہر میں داخل ہو اور اسے اس کے مکانوں سے اور اس کی جائیداد سے کلی طور پر محروم کر دیا گیا ہو اور ان سارے جذبات کے پورا کرنے سے جو انسان کے دل میں وطن میں آکر پیدا ہوتے ہیں قانونا روک دیا گیا ہو، اسے ان جگہوں پر ٹھرنے سے روکا گیا ہو جہاں اس کی ماں کا محبت بھرا ہاتھ اس کے سر پر پھرا کرتا تھا اور جہاں وہ اپنے دادا کی گود میں بیٹھا کر تا تھا اور اس کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا ہو کہ اب وہ ان کمروں میں نہیں ٹھہر سکتا جہاں اس کی قربانی کرنے والی بیوی خدیجہ 9 رہا کرتی تھی، جہاں اس کے بچے پیدا ہوئے اور جہاں اس کے پاس دوستوں کا جمگھٹا رہا کرتا تھا مگر اللہ تعالٰی نے غیر معمولی حالات پیدا کر دیئے اور وہ ایک فاتح کی حیثیت میں مکہ میں داخل ہوا۔کتنی شدید خواہش ہوگی جو اس کے دل میں پیدا ہوتی ہوگی کہ آج میں ان گھروں میں جاؤں اور ان میں ٹھہروں۔عام حالات میں یہ خواہش کتنی شدید ہوتی ہے اور محمد رسول الله ملا لیا اور ہم جیسے محبت کرنے والے انسان کے دل میں تو یہ خواہش اور بھی زیادہ شدت